بالی وڈ اداکارہ سارہ علی خان سے چالاک سیلزمین نے اپنی پروڈکٹ کی مفت تشہیر کرالی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
ممبئی(شوبز ڈیسک)کروڑوں روپے لینے والی بالی وڈ اداکارہ سارہ علی خان سے چالاک سیلز مین نے مفت میں اپنی پروڈکٹ کی تشہیر کرادی۔
بالی وڈ کے اداکار سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان کئی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اداکارہ کسی بھی پروڈکٹ کی تشہیر کیلئے ایک کروڑ بھارتی روپے (جو کہ پاکستانی روپوں میں 3 کروڑ 21 لاکھ روپے سے زائد بنتے ہیں) وصول کرتی ہیں۔
تاہم ایک چالاک شخص نے سارہ سے اپنے برانڈ کی مفت پروموشن کروا لی اور اس ویڈیو نے سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر سب کی توجہ حاصل کر لی۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ممبئی میں سارہ علی خان جم سے باہر نکلتی ہیں تو ایک سیلزمین مداح کے روپ میں ان سے ملتا ہے اور ہاتھ میں پکڑے پیکٹ کا بتاتا ہے۔
اتنے میں اداکارہ گاڑی کی طرف پہنچتی ہیں تو سیلز مین تصویر کھنچوانے کا کہتا ہے جس پر وہ ہاتھ میں پکڑے پیکٹ کے ساتھ ہی تصویر بناتا ہے اور پھر وہ پیکٹ سارہ علی خان کو دے دیتا ہے۔
تاہم سیلز مین کے عمل پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے، کئی نے اس کی تعریف تو کسی نے شدید تنقید کی ہے۔
ایک صارف نے سیلزمین کو ’سال کا بہترین سیلزمین اور مارکیٹر‘ قرار دیا تو ایک اور نے لکھاکہ دماغ ہو تو سب کچھ ممکن ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے اداکارہ کو سیلزمین اور پروڈکٹ کے خلاف قانونی کارروائی کا مشورہ دیا ہے۔
مزیدپڑھیں:عمران خان کا حکم میرا فیصلہ ہوگا، جب وہ چاہیں گے کابینہ میں تبدیلی ہوگی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سارہ علی خان
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ