مجھے نہیں لگتا کہ امریکی انتظامیہ عمران خان کی رہائی کیلئے کوئی دباؤ ڈالے گی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2025 GMT
اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔ 03 فروری 2025ء ) وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کو امریکیوں کا چھوڑا ہوا اسلحہ سپلائی ہورہا ہے، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے امریکی اسلحہ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں استعمال کررہی ہے، اس اسلحے کی وجہ سے حملوں میں شدت اور جانی نقصان زیادہ ہورہا ہے۔انہوں نے جیو نیو زکے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے دہشتگردوں کو اسلحہ میسر ہے، وہ یہ اسلحہ خریدتے ہیں یا ان کو سپلائی کی جاتی ہے اور یہ امریکی اسلحہ ہے، یہ اسلحہ وہاں لوگوں اور ٹی ٹی پی کے کام آرہا ہے، دہشتگردوں کو امریکیوں کا چھوڑا ہوا اسلحہ سپلائی ہورہا ہے، کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے امریکی اسلحہ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں استعمال کررہی ہے، اس اسلحے کی وجہ سے حملوں میں شدت اور جانی نقصان زیادہ ہورہا ہے۔
(جاری ہے)
کچھ اضلاع میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، لیکن کچھ میں صورتحال خراب ہے، یہ ایک جنگ ہے اس کا فوری بندوبست نہیں ہوسکتا، اس کا مقابلہ ہماری افواج کے جوان اور افسران کررہے ہیں، ایک شہید جوان کا میں نے جنازہ میں شرکت کی اس کی ایک مہینہ پہلے شادی ہوئی تھی، اسی طرح 11زخمیوں کو مل کر آئے ہیں، میں دیکھا کہ ان کے حوصلے بلند تھے، وزیراعظم کو انہوں نے کہا کہ ہماری صحت ٹھیک ہوتی ہے تو ہم عمر ہ کرنا چاہتے ہیں۔ہمارے جوان اور افسران جس طرح قربانیاں دے رہے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی، پچھلے مہینوں سے دہشتگردی واقعات میں شدت آئی ہے، جبکہ 2018میں دہشتگردی ختم ہوچکی تھی، اکا دوکا واردات ہوتی تھی، لیکن اب دہشتگردی میں زیادہ ہاتھ وہ ہے جو2021میں دہشتگرد واپس لائے گئے، تنظیمیں ان کے گھروں میں آتی ہیں پھر آگے آپریٹ کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2013میں نوازشریف برسراقتدار آئے، اس وقت بھی دہشتگردی تھی، لیکن بہتری آئی۔ اب کے پی اور بلوچستان میں لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ دہشتگردی میں انڈیا کا بڑا ہاتھ ہے،کالعدم بی ایل اے اور طالبان کے پیچھے انڈیا کا ہاتھ ہے، بی ایل اے کے لوگ نئی دہلی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ امریکی انتظامیہ عمران خان کی رہائی کیلئے پاکستان پرکوئی دباؤ ڈالے گی، پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کی وسعت بہت زیادہ ہے، امریکا کے تعلقات ایک شخص یاپارٹی کے اوپر محدود نہیں ہیں، زلمے خلیل زاد کو اس کے ملک نے بھی فارغ کردیا ہے کوئی قبو ل نہیں کررہا ہے۔عمران خان کے حق میں بہت سارے لوگوں نے ٹویٹس کئے لیکن ڈیلیٹ کردیئے۔ امریکا کے ساتھ حکومت پاکستان کی انگیجمنٹ بالکل ٹھیک ہے اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بی ایل اے نے کہا کہ ہورہا ہے انہوں نے
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا کل مینار پاکستان جلسہ لٹک گیا، انتظامیہ نے اجازت نہیں دی
لاہور:پیپلز پارٹی لاہور کا 25 جولائی کو مینار پاکستان پر گرینڈ جلسے کا انعقاد کھٹائی میں پڑگیا، پولیس اور پی ایچ اے نے ضلع انتظامیہ کو منفی رپورٹ جمع کرادی، پولیس نے جلسے کے لیے پہنچی کرسیاں، جنریٹر اور ڈیکوریشن سے لدے ٹرک گیٹ پر روک دیے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پیپلز پارٹی نے کل 25 جولائی کو مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان کررکھا ہے جس میں صدر زرداری، بلاول اور آصفہ بھٹو کو شرکت کرنی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ آج پولیس نے جلسہ گاہ آئے سامان سے لدے ٹرک باہر ہی روک دیے، پولیس اور پی ایچ اے نے ضلعی انتظامیہ کو منفی رپورٹ جمع کرادی جس میں جلسے کی اجازت نہ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مینار پاکستان فیملیز کا تفریحی مقام ہے یہاں مناسب نہیں، جلسے سیکیورٹی خدشات ہیں۔ اسی طرح پی ایچ اے نے جلسے کے لیے زر ضمانت کے طور پر 60 لاکھ روپے مانگ لیے، جلسے کی اجازت کے لیے ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کا اجلاس تک نہیں بلایا، جلسے کی اجازت ڈی سی لاہور سے مشروط ہے۔ پی ایچ اے نے مینار پاکستان پارک متاثر ہونے کے پیش نظر جلسے کی اجازت نہ دینے کی تجویز دی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما درخواست گزار فیصل میر نے کہا تھا کہ جلسے میں صدر زرداری، بلاول اور آصفہ بھٹو شرکت کریں گے، 25جولائی کو رات 8 سے صبح 4 بجے تک جلسے کی اجازت دی جائے، جلسے میں پی پی کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔
دوسری جانب سامان روکے جانے پر مینار پاکستان کے باہر میڈیا سے بات چیت میں فیصل میر نے کہا کہ لاہور کی انتظامیہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی طرف سے اجازت کے باوجود پیپلز پارٹی کے جلسے کو روکنے کا کوشش کر رہی ہے، اس وقت جلسے میں لے جانے والی کر سیوں، لائٹس، ساؤنڈ سسٹم اور دیگر سامان کو مینار پاکستان کے گیٹ پر روک لیا گیا ہے، پیپلز پارٹی تمام رکاوٹوں کے باوجود مینار پاکستان پر ہی کنوینشن منعقد کرے گی۔
فیصل میر نے کہا کہ اس وقت پولیس جلسہ گاہ میں کام کرنے والے ورکرز کے شناختی کارڈ اور فون نمبرز لے کر انہیں کام کرنے سے روک رہی ہے، لاہور کی انتظامیہ اپنے آپ وزیراعلی مریم نواز سے سے طاقتور ہونے کا تاثر دے رہی ہے، کل مجھے وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری صاحب نے خود کہا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی طرف سے آپ کو جلسے کی اجازت ہے، وزیراعلی پنجاب سے گزارش ہے کہ اپنے اختیارات استعمال کریں، وزیراعلی پنجاب فورا انتظامیہ کو ہدایت جاری کریں کہ پیپلز پارٹی کے کنوینشن میں رکاوٹیں کھڑی نہ کریں، پیپلز پارٹی کنونشن کرنے کے جمہوری حق سے کسی صورت میں دست بردار نہیں ہوگی۔