ماورا حسین نے امیر گیلانی سے نکاح کی تصدیق کر کے تصاویر شیئر کردیں
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
کراچی:
پاکستانی اداکارہ ماورا حسین نے اپنی شادی کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے ساتھی اداکار امیر گیلانی سے نکاح کی تصدیق کردی۔
ماورا حسین اور امیر گیلانی کی شادی کی خبریں گزشتہ روز سے چل رہی تھیں تاہم اب اداکارہ نے ان پر خاموشی توڑتے ہوئے نکاح کی تصدیق کی۔
ماورا نے انسٹاگرام پر اپنی اور امیر گیلانی کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے نکاح کرلیا ہے۔
اداکارہ نے تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’بالاخر اس ہنگامے کے دوران میں نے تمھیں حاصل کرلیا‘۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ہیش ٹیگ #MawraAmeerHoGayi بھی استعمال کیا۔
انہوں نے اس پوسٹ میں پانچ فروری کی تاریخ درج کرتے ہوئے بسم اللہ بھی لکھا۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کے ازدواجی سفر کا آغاز پانچ فروری سے ہی شروع ہوا ہے۔
اس سے قبل بدھ کے روز سوشل میڈیا پر افواہیں زیر گردش تھیں کہ شوبز اداکارہ ماورا حسین اپنے قریبی دوست اور ساتھی اداکار امیر گیلانی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھ گئی ہیں۔
ماورا کی جانب سے نکاح کا باضابطہ اعلان ہونے پر مداح سرپرائز ہوئے اور انہوں نے دونوں کی نئی زندگی کی شروعات کیلیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امیر گیلانی ماورا حسین کرتے ہوئے انہوں نے
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔