Jasarat News:
2026-06-03@07:03:52 GMT

مارکیٹ میں شدید مندی ، انڈیکس 1600پوائنٹس گھٹ گیا

اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT

مارکیٹ میں شدید مندی ، انڈیکس 1600پوائنٹس گھٹ گیا

کراچی(کامرس پورٹر)آئی ایم ایف کے آئندہ مذاکرات کے نتائج پر بے یقینی اور منافع کی خاطر فروخت کے دبا وسے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار ی ہفتے کے چوتھے دن شدید مندی کا رجحان رہا ،کے ایس ای 100انڈیکس 1600 پوائنٹس گھٹ گیا جس کی وجہ مارکیٹ 1لاکھ11ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد گر گئی اور انڈیکس1لاکھ 10 ہزار300پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔مندی سے سرمایہ کاروں کو172ارب روپے سے زاید کاخسارہ برداشت کرنا پڑا جبکہ 65.

74فیصد حصص کی قیمتیں بھی گھٹ گئیں۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو کاروبار کے ابتدائی سیشن سے ہی فروخت کا رجحان غالب رہا ،کمرشل بینکوں، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور او ایم سیز سمیت اہم شعبوں میں فروخت دیکھی گئی۔اسٹاک ماہرین کے مطابق سرمایہ کار موجودہ سطح کو پرکشش نہیں پا رہے ہیں۔ مستقبل قریب میں مارکیٹ محدود رہ سکتی ہے جبکہ آئی ایم ایف کے آئندہ مذاکرات کے بعد ہی اسٹاک مارکیٹ مستقبل کے سمت کا تعین کریگا۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کو کے ایس ای 100انڈیکس1634پوائنٹس کمی سے1لاکھ 10 ہزار301پوائنٹس پر بند ہوا اسی طرح 638پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای 30انڈیکس34ہزار 386پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 69ہزار366پوائنٹس سے گھٹ کر 68ہزار560 پوائنٹس ہوگیا۔کاروباری مندی سے مارکیٹ کے سرمائے میں 172ارب98 کروڑ51لاکھ 47ہزار537روپے کی کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 13827ارب61 کروڑ33لاکھ90ہزار856روپے سے کم ہو کر 13654ارب62 کروڑ82لاکھ43 ہزار 319روپیروپے رہ گیا۔اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کو 25ارب روپے مالیت کے59کروڑ 89لاکھ30ہزارحصص کے سودے ہوئے جبکہ بدھ کو 23ارب روپے مالیت کے43کروڑ 63لاکھ 25ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ روز مجموعی طور پر435 کمپنیوں کاکاروبار ہوا جس میں سے 101کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ۔286میں کمی اور48کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔کاروبار کے لحاظ سے سلک بینک لمیٹڈ ،ورلڈ کال ٹیلی کام ،بینک مکرمہ ،بینک آف پنجاب اور ٹی اار جی پاک لمیٹڈ سر فہرست رہے۔قیمتوں میں اتار چڑھاو کے اعتبار سے نیسلے پاکستان لمیٹڈ کا بھاو 51.11روپے کااضافے سے 7440.36 روپے ہو گیا اسی طرح 30.39روپے بڑھکر ہیلون پاکستان لمیٹڈ کے حصص کی قیمت847.78روپے ہو گئی جبکہ یونی لیور پاکستان کا بھاو83.70روپے کمی سے 22315.50روپے ہو گئی ۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اسٹاک اسٹاک مارکیٹ مارکیٹ میں کے ایس ای حصص کی

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق