حکومتی اور دفاعی اداروں پر بھارتی سائبر حملوں کا خدشہ‘ سیکورٹی ایڈوائزری جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) بھارتی ہیکرز پہلگام واقعے کی آڑ میں بھی حکومتی ڈیٹاحاصل کرنے کے لیے سرگرم ہوگئے، حکومتی اور دفاعی اداروں پر بھارتی سائبر حملوں کے خدشے پر کابینہ ڈویژن نے سائبر سیکورٹی ایڈوائزری جاری کردی۔کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ سائبر سیکورٹی ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ وائرس ای میل، واٹس ایپ پیغامات سے مشکوک فائل کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے، سائبر حملہ آور میلویئر وائرس کی حامل مشکوک فائل پہلگام واقعے کے نام سے بھیجتے ہیں۔ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ میلویئر وائرس کے پاس خاموشی سے ڈیوائس سے ڈیٹا اور تصاویر اکھٹا کرنے کی صلاحیت ہے۔کابینہ ڈویژن کی ایڈوائزری میں نامعلوم ذرائع سے آنے والی ای میلز کو نہ کھولنے اور نظراندازکرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ایڈوائزری میں سفارش کی گئی ہے کہ کسی بھی اٹیچمنٹ کو کھولنے سے پہلے اینٹی وائرس سے اسکین کیا جائے اور مشکوک ای میل کی اطلاع فوری طور پر ادارے کے آئی ٹی ایڈمن کو دی جائے۔ایڈوائزری حکومتی اور دفاعی اداروں کو دہری تصدیق کا نظام اور مضبوط پاسورڈ اپنانے اور کمپیوٹریالیپ ٹاپ پر مضبوط، اپڈیٹڈ اینٹی وائرس انسٹال رکھنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ایڈوائزری میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ ناقابل اعتبار کلاؤڈ اسٹوریج پر سرکاری یا ذاتی ڈیٹا محفوظ نہ کیا جائے اور نہ ہی آن لائن ڈاکیومنٹ کنورٹنگ ٹولز استعمال کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایڈوائزری میں کی گئی ہے
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟ نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔
ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔