دینی جماعتیں ہی ملک کو بچا سکتی ہیں، جمہوریت میں الیکشن ہوتے ہیں مگر یہاں سلیکشن ہے، مولانا عبدالغفور حیدری
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
مدرسہ قاسم العلوم گلگشت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے مرکزی جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ حکومت نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی، لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے، معاشی طور پر ریاست عدم استحکام کا شکار ہے، بلوچستان میں بھی ریاست نام کی کوئی چیز نہیں، جہاں بلوچوں نے اپنا ترانہ اور پرچم بنایا ہے، منظور پشتین نے کہا کہ ہمیں اب فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے کب تک چلنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام (ف)کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ ملک کو بچانے کے لیے دینی جماعتوں کو کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ دینی جماعتیں ہی ملک کو بچا سکتی ہیں، جمہوریت میں الیکشن ہوتے ہیں مگر یہاں سلیکشن ہے، 8 فروری 2024 کو انتخابات کا ڈھونگ رچایا گیا، ہم نے 9 فروری کو ہی الیکشن کو مسترد کرکے دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کیا تھا، جمہوریت میں الیکشن ہوتے ہیں اسلامی ریاست کا تصور تو بالکل ختم ہو گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدرسہ قاسم العلوم گلگشت میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر جے یو آئی کے ضلعی ناظم مفتی عامر محمود، جنرل سیکریٹری نور خان ہانس ایڈوکیٹ، ضلع ناظم اطلاعات رانا محمد سعید سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے مزید کہا کہ حکومت نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی، لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے معاشی طور پر ریاست عدم استحکام کا شکار ہے، بلوچستان میں بھی ریاست نام کی کوئی چیز نہیں، جہاں بلوچوں نے اپنا ترانہ اور پرچم بنایا ہے، منظور پشتین نے کہا کہ ہمیں اب فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے کب تک چلنا ہے، آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر سیاسی جماعت کو احتجاج کا حق ہے، پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہوں، بامقصد اور بااختیار مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں، ہم اپوزیشن میں ہیں ہمیں ملک کی فکر ہے، ملک معاشی طور پر عدم استحکام سے دوچار ہے جبکہ امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہے، کیا کچے کے ڈاکو ہماری فورسز سے زیادہ طاقتور ہیں؟ کچے کے ڈاکو لوگوں کو انکے اہل خانہ کے ہمراہ اغوا کررہے ہیں، حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔
انہوں نے پیکا ایکٹ کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے پر قدغن قرار دیا اور کہا کہ حکومت آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کی مجاز نہیں کیونکہ ہمارا آئین ہمیں آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم کو بھی کہا کہ ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں، آخر یہ نوبت یہاں تک کیوں پہنچی ہے، ہم اپوزیشن میں ہیں اور ہمیں پریشانی ہے ان بڑے بڑے لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہے، جن کا پارلیمنٹ سے کوئی تعلق تک نہیں ہے جو بدتمیزی آج دیکھنے میں آئی ہے اس سے پہلے نہ تھی، ہم دوبارہ الیکشن کے انعقاد پر آج بھی قائم ہیں، آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ دینی جماعتیں متحد ہوں جس طرح 26 ویں ترمیم پر دینی جماعتیں متحد ہوئیں اور قائد مولانا فضل الرحمن پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نام کی کوئی چیز دینی جماعتیں کہا کہ ہم نے کہا
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔