کراچی:

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہےکہ مجھے سمیت پوری ایم کیو ایم کو گورنر سندھ کامران ٹیسوری پر اعتماد ہے اور وہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

گزشتہ روز ایم کیو ایم کے عارضی مرکز بہادر آباد پر پیش آنے واقعے کے بعد اپنے ایک بیان میں چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کل کا واقعہ افسوسناک ہے،اس معاملے کو تنظیمی نظم و ضبط کے مطابق دیکھیں گے تاکہ اس طرح کا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ کامران ٹیسوری گورنر سندھ رہیں گے اور پوری پارٹی قیادت کو ان پر اعتماد ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم نظم و ضبط والی جماعت ہے اور ہماری پارٹی میں ایسے عناصر کی گنجائش نہیں جو شرپسندی کرتے ہیں، ہم ایسے عناصر کے خلاف تنظیمی نظم و ضبط کے تحت ایکشن لیں گے۔

چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان نے گورنر سندھ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کامران ٹیسوری نے قلیل عرصے میں تعلیمی اور فلاحی میدان میں جو کام کیے وہ قابل دید ہیں، ہمیں جب بھی صوبے  یا وفاق کے  معاملات پر مشاورت کرنا ہوتی ہے تو ہم انکے پاس جاتے ہیں اور یہ جمہوری عمل ہے۔

قبل ازیں ترجمان ایم کیو ایم پاکستان نے ایک بیان میں کہا  کہ دو روز سے میڈیا پر مسلسل ایم کیو ایم سے متعلق من گھڑت خبریں چلائی جارہی ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر چند عناصر معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرکے انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ایم کیو ایم کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ترجمان ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ شرپسند عناصر کارکنان کو آپس میں لڑوا کر اپنے مذموم مقاصد کا حصول چاہتے ہیں ایم کیو ایم پاکستان ایک جمہوری جماعت ہے جہاں کئی موضوعات پر اختلاف رائے ہوتا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت متحد ہے اور تمام صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے ترجمان نے کہا کہ کارکنان اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں اور کسی شرانگیزی کا شکار نہ ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی گورنر سندھ نے کہا کہ

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان

پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار