کراچی؛ مغوی بچے صارم لاش ملنے کا معاملہ؛ مشتبہ افراد کی ڈی این اے رپورٹ آگئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
کراچی:
مغوی بچے صارم کی لاش ملنے کے بعد مشتبہ افراد کے لیے گئے ڈی این اے نمونوں کی رپورٹس آ گئی۔
نارتھ کراچی کی رہائشی عمارت سے پراسرار طور پر لاپتا ہونے کے بعد اسی عمارت کے زیر زمین ٹینک سے ملنے والی کمسن بچے صارم کی لاش کا معما تاحال حال نہ ہوسکا۔
پولیس کی تفتیشی ٹیموں نے صارم کی ہلاکت کے حوالے سے 18 مشتبہ افراد کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے گئے تھے اور ان کی رپورٹس آنے کے بعد تمام مشتبہ افراد کی رپورٹ منفی آئی ہے
حکام کا کہنا ہے کہ کیمیکل ایگزیمنیشن رپورٹ کا انتظار ہے جب کہ ڈی این اے رپورٹس بچے سے ملنے والے نمونوں سے مماثلت نہیں رکھتیں، تاہم پولیس نے مزید متعدد مشکوک افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مشتبہ افراد ڈی این اے
پڑھیں:
کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ جبکہ بھارت کا امن کا درس دینا حقائق کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے انکار سے کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
پاکستانی قونصلر نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے متعدد اقدامات خود بھارت سے منسوب ہیں۔
صائمہ سلیم نےسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، اسے کسی صورت جنگ یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیل چکی ہیں، جبکہ بھارت میں ہندوتوا نظریات کے فروغ نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔