اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تفریق، پینشن اور دیگر مالی معاملات کا جائزہ لینے کیلئے فنانس ڈویژن کو ہدایات جاری کر دیں۔

وزارت بین الصوبائی رابطہ کی جانب سے بیان کے مطابق وفاقی سرکاری ملازمین کے مسائل کے حل کے لئے وزیر اعظم کے مشیر، رانا ثناءاللہ کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ، علی پرویز اور طارق فضل چودھری اور سرکاری ملازمین گرینڈ الائنس کے عہدیداران نے بھی شرکت کی۔

بیان کے مطابق آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے عہدیداران نے تنخواہوں میں تفریق، پے اینڈ پینشن کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد سمیت دیگر مطالبات کمیٹی کو پیش کئے، صوبوں کی طرز پر ملازمین کی اپ گریڈیشن، لیو اینکشمنٹ، دوران سروس وفات پر وزیراعظم پیکج میں کی گئی تبدیلی کو واپس لینا بھی مطالبات میں شامل ہیں۔

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر ملازمین کے مسائل کا جائزہ لینے اور ان کے حل کے لیے یہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، وزیراعظم نے سرکاری ملازمین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مسائل کے حل کے لئے قابل عمل تجاویز پر فوری عمل درآمد کیا جائے گا ۔ وفاقی مشیر رانا ثناءاللہ

اعلامیے کے مطابق رانا ثنااللہ نے تنخواہوں میں تفریق، پینشن اور دیگر مالی معاملات کا جائزہ لینے کیلئے فنانس ڈویژن کو ہدایات جاری کر دی۔
مزیدپڑھیں:چیف جسٹس نے آئی ایم ایف کے وفد سے ملاقات کی کہانی سنا دی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین کا جائزہ لینے

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ