بھارتی اداکارہ کو جم میں وزن اٹھانا مہنگا پڑ گیا، دو ماہ بستر سے ہل بھی نہ سکیں
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
مشہور اداکارہ راکول پریت سنگھ نے اپنی ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹ کے بارے میں انکشاف کیا ہے، جو 80 کلو ڈیڈ لفٹ کے دوران پیش آیا۔
یہ چوٹ اتنی شدید تھی کہ وہ دو ماہ تک بستر پر رہیں اور مشکل سے ایک منٹ کھڑی ہو پاتی تھیں۔
ایک انٹرویو میں راکول نے بتایا کہ چوٹ نے نہ صرف ان کے جسم پر بلکہ ذہنی طور پر بھی بڑا اثر ڈالا۔
انہوں نے کہا، "یہ میرے لیے ایک سبق تھا، اور اب میں اپنی ریڑھ کی ہڈی کو اسٹیل جیسا مضبوط بناؤں گی۔"
راکول نے فٹنس میں واپس آنے کے لیے سخت ریہیبیلیٹیشن (بحالی) کی، جس میں آبی تھراپی (Aqua Therapy) شامل تھی۔
انہوں نے بتایا کہ "میں نے پانی میں تمام ڈانس سٹیپس کو پریکٹس کیا تاکہ چوٹ دوبارہ نہ ہو۔"
راکول نے انکشاف کیا کہ وہ ابھی بھی 100 فیصد فٹ نہیں ہوئیں اور تقریباً 10 فیصد ریکوری باقی ہے، لیکن وہ پرامید ہیں کہ جلد مکمل فٹنس حاصل کر لیں گی۔
راکول پریت سنگھ کے مداح ان کی مضبوطی اور حوصلے سے متاثر ہو رہے ہیں، اور ان کی جلد مکمل صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں!
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔