کراچی:

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں پالیسی ساز اس بات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ انسانوں کی ترقی اولین ترجیح ہونی چاہیے اور ہمارے پالیسی سازوں نے معاشی خوش حالی کو کبھی اہمیت نہیں دی اور حکومتیں اس پہلو کو تواترکے ساتھ نظر انداز کر رہی ہیں۔

اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر جامعہ کراچی کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان:”ملک کے معاشی مستقبل کی تشکیل: کل کے رجحانات اور بصیرتیں“  کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ ہمارے پالیسی سازوں نے معاشی خوش حالی کو کبھی اہمیت نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ حکومتیں اس پہلو کو تواترکے ساتھ نظر انداز کر رہی ہیں اور ہم تاحال دوسری قوموں سے سیکھنے سے قاصرہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت میں جرمنی دو بلاکس میں بٹا ہوا تھا اور یہ وہ وقت تھا جب وہ فوجی مضبوطی کی دوڑ میں تھے لیکن بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ قوم کے لیے معاشی طاقت زیادہ اہم ہے اور ان کی معاشی خوش حالی کا نتیجہ جرمنی کے دوبارہ اتحاد کی صورت میں نکلا۔

معروف ماہر معاشیات وسابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر بات کرتے ہوئے کہا کہ افراط زر میں کمی اکثر بے روزگاری میں اضافے کا باعث بنتی ہے، لیکن یہ نظریہ لاگت بڑھانے والی افراط زر کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار نہیں ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی شرائط نے لاگت بڑھانے والی افراط زرمیں اضافہ کردیا ہے جو اقتصادی ترقی میں رکاوٹ ہے۔

اکیڈمی کے ماہرین نے نشان دہی کی کہ ڈیجیٹلائزیشن اور جدید کاری کی حکمت عملیوں سے فائدہ اٹھا کرپاکستان کے توازن ادائیگی کے مسائل حل کرنے میں نمایاں مدد کی جا سکتی ہے۔

اس موقع پر پینل ڈسکشن کا بھی انعقاد کیا گیا، جس کے دوران ماہرین نے پاکستان کی اقتصادی ترقی بڑھانے میں صنعتی ڈیجیٹلائزیشن کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی

عالمی ریٹنگ ایجنسی ’ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز‘ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ  -B سے بڑھا کر B کر دی ہے، جبکہ ملک کا آؤٹ لک ’اسٹیبل‘ برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ گزشتہ 7 برسوں میں پاکستان کی بلند ترین خودمختار کریڈٹ ریٹنگ ہے، جسے ملکی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کے مطابق یہ اپ گریڈ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی بنیادوں، ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور بیرونی معاشی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔

معاشی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کو سراہا گیا

ایس اینڈ پی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، محصولات میں اضافے، اصلاحاتی اقدامات اور محتاط معاشی پالیسیوں نے پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور ساختی اصلاحات کے تسلسل نے ملکی معیشت کے خطرات میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا، جس کے باعث پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل مزید مضبوط ہوئی ہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات روشن

ماہرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری سے پاکستان کی عالمی مالیاتی منڈیوں میں ساکھ مزید مضبوط ہوگی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ملک میں نئی سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔

اس پیش رفت سے مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستانی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ نجکاری کے منصوبوں میں بھی بین الاقوامی دلچسپی بڑھنے کا امکان ہے۔

عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد مزید مستحکم

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر کریڈٹ ریٹنگ پاکستان کو عالمی مالیاتی اداروں، قرض دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کے سامنے زیادہ مضبوط حیثیت فراہم کرے گی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی آسان ہونے اور مالیاتی اخراجات میں بہتری آنے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کو ملنے والی پذیرائی طویل المدتی معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے امکانات کو بھی تقویت دیتی ہے۔

معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت

ریٹنگ میں اضافے کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو آئندہ بھی جاری رکھا گیا تو پاکستان کی عالمی مالیاتی درجہ بندی میں مزید بہتری کے امکانات موجود ہیں۔

واضح رہے کہ کریڈٹ ریٹنگ کسی بھی ملک کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت اور مالیاتی اعتبار سے اس کے خطرے کی سطح کا اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسیاں، جن میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز، موڈیز اور فچ ریٹنگز شامل ہیں، مختلف معاشی اشاریوں کی بنیاد پر ممالک کی ریٹنگ کا تعین کرتی ہیں۔

پاکستان کو گزشتہ چند برسوں کے دوران بلند مہنگائی، کم زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی چیلنجز کا سامنا رہا۔ تاہم حالیہ عرصے میں معاشی اصلاحات، محصولات میں اضافے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے کی کوششوں اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوا ہے۔

 ماہرین کے مطابق ‘B’ ریٹنگ اگرچہ سرمایہ کاری کے درجے سے اب بھی نیچے ہے، تاہم یہ پاکستان کی معاشی سمت میں بہتری اور عالمی اعتماد میں اضافے کا ایک اہم اشارہ تصور کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت