Jasarat News:
2026-07-24@14:47:11 GMT

پاکستان دنیا کا 46 واں کرپٹ ترین ملک بن گیا،جاوید قصوری

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT

لاہور (وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے کرپشن کے حوالے سے شائع کئے جانے والے اعداد و شمار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس 2024 میں 180 ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان کا 135واں نمبر ہے جو گزشتہ برس 133 واں نمبر تھا۔ پاکستان دنیا کا 46 واں کرپٹ ترین ملک بن گیا جب کہ گزشتہ برس 48 واں ملک تھا۔ بھارت 96 ویں نمبر پر، ترکیہ 107 ویں، بنگلا دیش 151 ویں اور افغانستان 165 ویں نمبر پر ہے۔ ورائٹیر آف ڈیموکریسی پروجیکٹ میں پاکستان کی تنزلی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کرپشن ایک معاشرتی بیماری ہے اور اس کے خاتمے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ اگر حقیقی معنوں میں اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت اس ناسور کو ختم کرنے کا عزم کر لے تو ہم ایک خوشحال، شفاف، اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ بدعنوانی کے خلاف جنگ لڑنی ہوگی۔ کرپٹ عناصر کے خلاف ہمیں اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا۔بدعنوانی یا کرپشن ملکی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت مشکلات کا شکار ہے بدعنوانی کا مقابلہ کرنے میں حکومت کی نا اہلی نے عوام کے اعتماد کو کھو دیا ہے اور اس کے نتیجے میں اقتصادی ترقی رک گئی ہے۔ وسائل کی غلط تقسیم، غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی اور غربت کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ عوام میں بدعنوانی کے خلاف شعور اْجاگر کرنے اور سوچ کو بدلنا ہوگی۔ مساوات، شفافیت، عدل و انصاف اور میرٹ کا بول بالا ہی بہتر طرز حکمرانی کی اصل روح ہیں۔بد عنوانی ایک معاشرتی برائی ہے اور معاشرتی برائیاں معاشروں کی تباہی کا سبب بنتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو کمزور جمہوری نظام، حکومت میں بار بار تبدیلیوں اور سیاسی پولرائزیشن کی وجہ سے سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے۔پاکستان میں غربت کی شرح بلند ہے، 40 فیصد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ بے روزگاری ایک اور اہم معاشی چیلنج ہے، جس میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ملازمتیں تلاش کرنے سے قاصر ہے۔ افراط زر ایک مستقل مسئلہ رہا ہے، جس میں ضروری اشیا اور خدمات کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس سے غریبوں کے لیے اپنا پیٹ بھرنا مشکل ہو گیا ہے۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ رہی سہی کسر رمضان المبارک کے قبل گراں فروش مافیا نے قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے پوری کر دی ہے۔ حکومت گراں فروشی کی روک تھام کو یقینی بنائے تاکہ لوگ معاشی مجبوریوں سے آزاد ہوکر روزے رکھ سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر ڈی ایس پی صدر رحیم یارخان معطل
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف