موٹر وے ٹول ٹیکس میں اضافے کیخلاف درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ہائی کورٹ نے موٹر وے ٹول ٹیکس میں اضافے کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق موٹروے ٹول ٹیکس میں اضافے کے خلاف ڈائر درخواست پر سماعت پشاور ہائی کورٹ میں ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل عظیم داد ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ31 جنوری 2025 کو حکومت نے نوٹیفکیشن کے ذریعے ٹول ٹیکس میں اضافہ کیا۔
وکیل کے مطابق ایم ٹیگ نہ لگانے والوں کے لیے ٹول ٹیکس میں 100 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے 2024 میں دو بار ٹول ٹیکس میں اضافہ کیا، پشاور سے چارسدہ کا ٹول ٹیکس 30 سے 40 اور پھر 40 سے 60 روپے کردیا، ایک سال میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا۔
ترک صدر کی وزیراعظم ہاؤس آمد،وزیراعظم نے معزز مہمان کا استقبال کیا
درخواست میں مزید کہا گیا کہ اب حکومت نے ایم ٹیگ نہ لگانے پر 100 فیصد اضافہ کیا جو غیر قانونی ہے۔ ٹول ٹیکس میں اضافے سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔
جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ریمارکس دیے کہ ہمیں بھی پتا ہے کہ یہ اضافی ٹیکس ہے۔وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ حکم امتناع جاری کیا جائے کہ اس کیس پر فیصلے تک اضافی ٹول ٹیکس نہ لیا جائے، جس پر عدالت نے کہا کہ ہم اس میں مناسب آرڈر کرتے ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
’ مجھے کنگ نہ کہا کریں کیونکہ ۔۔‘ ناقص کارکردگی پر بابراعظم نے بیان جاری کر دیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اضافہ کیا
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔