ٹرمپ نے بھارتی نژاد پال کپور کو نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا نامزد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT
پال کپور بھارت، پاکستان سلامتی اور جوہری امور کے ماہر اور پاکستان کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں، وہ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں امریکی محکمہ خارجہ کی جنوبی ایشیا پالیسی ٹیم کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی نژاد پال کپور کو جنوبی اور وسطی ایشیاء کے لیے اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ نامزد کر دیا ہے۔ اگر ان کی تقرری کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو وہ اس عہدے پر فائز ہونے والے دوسرے بھارتی نژاد امریکی سفارت کار ہوں گے۔ پال کپور بھارت، پاکستان سلامتی اور جوہری امور کے ماہر اور پاکستان کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں، وہ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں امریکی محکمہ خارجہ کی جنوبی ایشیا پالیسی ٹیم کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔
پال کپور اس وقت امریکی نیول پوسٹ گریجویٹ اسکول میں پروفیسر ہیں اور اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ہوور انسٹیٹیوشن میں وزیٹنگ فیلو کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے بھی کئی بھارتی نژاد امریکیوں کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا ہے، جن میں کاش پٹیل کو ایف بی آئی ڈائریکٹر اور سری رام کرشنن کو وائٹ ہاؤس کا اے آئی پالیسی ایڈوائزر مقرر کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بھارتی نژاد
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔