بیجنگ :چھیوشی میگزین کے شمارے میں چین کے صدر شی جن پھنگ کا ایک اہم مضمون شا ئع ہو رہا ہے جس کا عنوان ہے “پارٹی کی جامع اور سخت حکمرانی کے نظام کو بہتر بنایا جائے”۔
ہفتہ کے روز مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی اٹھارہویں  قومی کانگریس کے بعد سے ، چین نے پارٹی کی جامع اور سخت حکمرانی کو غیر متزلزل طور پر فروغ دیا ہے ، نظریاتی اختراعات ، عملی اختراعات اور ادارہ جاتی اختراعات کی سلسلہ وار کارمیابیاں حاصل کی ہیں ، اور پارٹی کی جامع اور سخت حکمرانی کا نظام تشکیل دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی نوٹ کیا جانا چاہئے کہ پارٹی کے اندر کچھ واضح مسائل ابھی تک بنیادی طور پر حل نہیں ہوئے ہیں، انسداد بدعنوانی کی جدوجہد میں  اب بھی کام کی گنجائش ہے    اور نئے حالات اور نئے مسائل مسلسل ابھر رہے ہیں۔ مضمون میں پارٹی نظام کی جامع اور سخت حکمرانی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے ، جو عناصر میں مکمل ، افعال میں جامع ، سائنسی اور معیاری ، اور عمل میں موثر  ہو  ۔ مضمون میں  پانچ پہلوؤں سے پارٹی نظام کی جامع اور سخت حکمرانی کی بہتری کے انتظامات بھی پیش کیے گئے ہیں جن میں  تنظیمی  ، تعلیمی  ، نگرانی  ، ادارہ جاتی   اور ذمہ داری کے  نظام  شامل ہیں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی جامع اور سخت حکمرانی

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثر کو بہتر بناسکتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت