کوئٹہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈ اور منشیات فروش مافیا اور اغواء کاروں کی سرپرستی بند کی جائے۔ بلوچستان میں نوجوان نسل کو برباد کرنیوالے منشیات کے تمام اڈوں کا خاتمہ کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کو بازیاب، اغواء نما گرفتاریوں، بدامنی کا سلسلہ اور بلوچستان میں بدترین انسانی حقوق کی پامالی بند کرکے سیاسی آزادی، حقوق، روزگار اور وسائل دیئے جائیں۔ بلوچستان کے عوام کو حق دو بلوچستان مہم کے تحت حقوق دلائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں مختلف وفود سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی، بھتہ خوری پروان چڑھانے، شاہراہوں پر عوام کی تذلیل کرنے والی فورس ایف سی کو فور ی طور پر بلوچستان سے بے دخل کرنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کے سمندر سے ٹرالر مافیا کا خاتمہ کیا، سمندری حیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ بلوچستان کے لوکل گورنمنٹ، ڈسٹرکٹ کونسل، میونسپل کارپوریشن، میونسپل کمیٹی اور یونین کونسلز کو مالی و انتظامی اختیارات دینے سے بہتری آ سکتی ہے۔ بلوچستان میں ڈیتھ اسکواڈ اور منشیات فروش مافیا اور اغواء کاروں کی سرپرستی بند کی جائے۔ بلوچستان میں نوجوان نسل کو برباد کرنے والے منشیات کے تمام اڈوں کا خاتمہ کیا جائے اور منشیات کی کاشت کو روکا جائے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تمام قبائلی تنازعات کے حل کیلئے موثر اقدامات اٹھاتے ہوئے قومی امن جرگہ تشکیل دینا بہتر ہے تاکہ تنازعات کو فوری حل کیا جاسکے۔ بلوچستان میں باڈر کاروبار کو تحفظ، چمن سے لیکر گوادر بارڈر کے تمام کراسنگ پوائنٹ کھولے جائیں۔ آزادانہ شناختی کارڈ کے ذریعے کام کرنے دیا جائے۔ ٹوکن اور ای ٹیگ وغیرہ کا خاتمہ کیا جائے۔ بلوچستان میں کرپشن کرنے والے سیاست دان، بیوروکریسی، ججز اور جرنیلوں کا سخت احتساب کیا جائے۔ ان کی لوٹی ہوئی دولت عوام پر خرچ کی جائے۔ بلوچستان کے شاہراہوں پر عوام کی تذلیل، چوکوں پر عوام، ماؤں، بہنوں کو گالی دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ بلوچستان میں غیر ضروری اور ناجائز چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا جائے۔ آبادی کے اندر و باہر مختلف پراجیکٹس پر کام کرنے والے مزدورں، کانکنوں کو تحفظ دیا جائے اور ان کا قتل عام بند کیا جائے۔ صوبے میں تعلیم، صحت، پانی، بجلی، گیس کی فراہمی کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔ صوبے میں ہزاروں بند اسکولز اور ہسپتال کھولے جائیں۔ بلوچستان میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن فوری طور پر قائم کیا جائے اور ہائیر ایجوکشن کیلئے خصوصی بجٹ مختص کیا جائے۔ بلوچستان میں نوکریوں اور محکموں کی خرید و فروخت کو بند کیا جائے، میرٹ کو بحال کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کا خاتمہ کیا جائے بلوچستان میں کہ بلوچستان بلوچستان کے کی جائے کے تمام نے کہا بند کی

پڑھیں:

جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت

تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی

جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔

معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار