مولانا فضل الرحمان کی جان کو خطرہ، پولیس نے تھریٹ لیٹر جاری کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2025 GMT
ڈی آئی خان: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کے پیش نظر پولیس نے تھریٹ لیٹر جاری کر دیا ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق پولیس کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں مولانا فضل الرحمان کو سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا گیا ہے جس کے مطابق خیبرپختونخوا میں دہشت گرد انہیں مذہبی اور سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے نشانہ بنا سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈی آئی خان پولیس نے مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی نقل و حرکت کو محدود رکھیں اور سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنائیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تھریٹ لیٹر ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب ملک میں امن و امان کی صورتحال حساس ہے اور سیاسی رہنماؤں کو مختلف سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔
پولیس نے مولانا فضل الرحمان کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور کسی بھی غیر معمولی صورتحال میں فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان پولیس نے
پڑھیں:
بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر میں اہلکار کی اندھا دھند فائرنگ، 2 اہلکار ہلاک، تیسرے کی حالت نازک
بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے سیکٹر ہیڈکوارٹر میں ایک اہلکار کی فائرنگ سے 2 اہلکار ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہو گیا۔ واقعے کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ فائرنگ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ ضلع مالدہ کے 17 مائل سیکٹر ہیڈکوارٹر میں پیش آیا، جہاں بی ایس ایف کی 119ویں اور 71ویں بٹالین کے ہیڈکوارٹر قائم ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق 119ویں بٹالین سے تعلق رکھنے والے اہلکار شیوم مشرا نے آرام کرنے والے 71ویں بٹالین کے اہلکاروں پر اچانک اپنی سرکاری رائفل سے فائرنگ کر دی، جس سے کیمپ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
فائرنگ کے نتیجے میں 71ویں بٹالین کے 51 سالہ اجے کمار سنگھ، جو بھارتی ریاست بہار کے رہائشی تھے، اور 37 سالہ امباداس سریش درگو، جن کا تعلق مہاراشٹر سے تھا، موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کے ساتھی وکاس ورما شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی اہلکار کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کے فوراً بعد بی ایس ایف کے اہلکاروں نے ملزم شیوم مشرا، جو ریاست چھتیس گڑھ کا رہائشی ہے، کو حراست میں لے لیا۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر فائرنگ کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ بی ایس ایف نے واقعے کی اندرونی انکوائری شروع کر دی ہے، جبکہ یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا واقعہ کسی ذاتی تنازع، ذہنی دباؤ یا دیگر عوامل کا نتیجہ تھا۔
بھارتی سیکیورٹی فورسز میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ذہنی دباؤ، طویل ڈیوٹی اوقات، اندرونی تنازعات اور ساتھی اہلکاروں پر فائرنگ جیسے واقعات متعدد بار رپورٹ ہو چکے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات فورسز میں نفسیاتی دباؤ اور فلاحی نظام سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کرتے ہیں، جس کے باعث اہلکاروں کی ذہنی صحت اور پیشہ ورانہ معاونت کے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں