26 ویں ترمیم کے دوران غائب پی ٹی آئی اراکین کے گرد گھیرا تنگ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
اسلام آ باد (مانیٹرنگ ڈیسک) 26ویں آئینی ترامیم کے دوران غائب رہنے والے پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے پارٹی نے سماعت کیلیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔ رپورٹ کے مطابق کمیٹی میں سابق سپیکر اسد قیصر، عون عباس بپی، سردار اظہر طارق
شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق بانی چیئرمین کی ہدایت کے بعد کمیٹی نے کام شروع کردیا، کمیٹی کا پہلا اجلاس کل ہوگا، اجلاس کے لیے تمام کمیٹی ممبران کو آگاہ کردیا گیا ہے،کمیٹی کل اپنی حکمت عملی تیار کرے گی، پارٹی کی جانب سے 26 ویں آئینی ترامیم کے دوران غائب رہنے والے پارلیمنٹیرینز کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے، غائب رہنے والے ایم این ایز میں زین قریشی، ریاض فتیانہ، مقداد علی خان، بریگیڈیئر اسلم گھمن، سینیٹر زرقا اور سینیٹر فیصل سلیم بھی آئینی ترامیم کے دوران پارٹی سے رابطے میں نہ تھے، سینیٹر فیصل سلیم کے علاوہ تمام پارلیمنٹیرنز نے شوکاز نوٹس کا جواب بھجوا دیا ہے، کمیٹی تمام پارلیمنٹیرینز کو سننے کے بعد فیصلہ کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے دوران
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔