بلوچستان میں مائننگ کمپنیوں کے بغیر ادائیگی معدنیات نکالنے کاانکشاف
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
بلوچستان میں مائننگ کمپنیاں بغیر ادائیگی معدنیات نکالنے لگیں، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے انکشاف کر دیا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) بلوچستان کا اجلاس کمیٹی روم میں بلوچستان صوبائی اسمبلی میں چیئرمین اصغر علی ترین کی صدارت میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں کمیٹی کے اراکین کے علاوہ سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، اے جی بلوچستان نصراللہ جان، ڈی جی آڈٹ بلوچستان شجاع علی، ایڈیشنل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، چیف اکاؤنٹس آفیسر پی اے سی سید ادریس آغا، محکمہ قانون کے ایڈیشنل سیکرٹری مزمل زہری، محکمہ مائنز اینڈ منرلز اور محکمہ خزانہ کے افسران نے شرکت کی۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا بلوچستان کے بقایا منافع اور مائننگ کمپنیوں سے رائلٹی کی عدم وصولی پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے محکمہ معدنیات اور کان کنی میں مالی بے ضابطگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا، بلوچستان کے جائز منافع اور رائلٹی کی عدم وصولی کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس محکمہ معدنیات اور کان کنی کے آڈٹ پیراز اور کمپلائنس رپورٹس پر غور کے لیے منعقد کیا گیا تھا، جس میں مالی بے ضابطگیوں اور بلوچستان کے مالی حقوق کی عدم ادائیگی کے معاملات زیر بحث آئے۔
آئین کی 18ویں ترمیم (آرٹیکل 38 جی) کے تحت بلوچستان سینڈک میٹلز لمیٹڈ کے خالص منافع کا 30 فیصد حصہ بلوچستان حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم محکمہ معدنیات کے ڈائریکٹر جنرل 2020-21 کے مالی سال میں 669.
2020 سے پیٹرولیم ڈویژن نے ایس ایم ایل کو بلوچستان حکومت کو ادائیگی روکنے کی ہدایت کی ہے۔ جس پر زابد علی ریکی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ آغاز حقوق بلوچستان فیصلہ اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔
چیئرمین پی اے سی نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اعلیٰ سطح پر احتجاج کریں گے اور بلوچستان کے حقوق کے لیے لڑیں گے۔
کمیٹی ممبران نے معاملے پر خصوصی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے اور چیف سیکرٹری و وزیر اعلیٰ کو باضابطہ شکایت بھیجی جائے گی۔
ممبران نے کہا کہ 2010 سے اب تک بلوچستان کو صرف 5.6 ارب روپے ملے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت کو 8.5 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔
بلوچستان منرلز کنسیشن رولز 2002 کے قاعدہ 104 کے تحت کان کنی کی کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ ہر چھ ماہ بعد رائلٹی اور کرایہ ادا کریں، مگر 2019 سے 2022 کے دوران محکمہ معدنیات 395.918 ملین روپے کی وصولی میں ناکام رہا۔
2019-2022 کے مسلسل آڈٹ رپورٹس میں اس مسئلے کو اجاگر کیا گیا، لیکن کوئی اصلاحی اقدام نہیں لیا گیا۔
محکمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے ان کے خلاف فیصلہ دیا تھا، لیکن ہی اے سی نے محکمے کی قانونی کمزوری پر سخت تنقید کی۔ کمیٹی نے ہدایت دی کہ یہ معاملہ دوبارہ کابینہ میں لے جایا جائے اور منظوری حاصل کی جائے۔
پبلک اکائونٹس کمیٹی نے معاملے پر فالو اپ اجلاس کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ ذمہ داران، چاہے وہ ریٹائرڈ ہی کیوں نہ ہوں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
کمیٹی کے رکن زابد علی ریکی نے کہا کہ مائننگ کمپنیاں اربوں روپے کمارہی ہیں، لیکن بلوچستان کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
کمیٹی نے کہا کہ ڈی جی سیمنٹ سے 12 ملین روپے 15 دن کے اندر وصول کیے جائیں، ٹھیکیداروں سے 228.715 ملین روپے ایک ماہ کے اندر وصول کیے جائیں۔
کمیٹی نے محکمہ معدنیات کے مالی سال 2021-22 کے بجٹ کے انتظام میں سنگین غلطیوں کا انکشاف کیا ہے۔
نان ڈیویلپمنٹ بجٹ: اصل بجٹ 3,767.319 ملین روپے تھا، جس میں بعد میں 631.430 ملین روپے کا اضافہ کیا گیا، لیکن 915.527 ملین روپے واپس کر دیے گئے، جس کے بعد حتمی بجٹ 4,398.749 ملین روپے رہا۔ خرچ 3,118.969 ملین روپے ہوا، اور 1,279.780 ملین روپے (29.09%) غیر استعمال شدہ رہ گئے۔
ڈیویلپمنٹ بجٹ: اصل مختص شدہ بجٹ 1,496.368 ملین روپے تھا، لیکن کمی کر کے 166.291 ملین روپے کر دیا گیا۔ خرچ 164.109 ملین روپے ہوا، اور 2.182 ملین روپے غیر استعمال رہے (1.31%)۔
مجموعی بجٹ: 5,263.687 ملین روپے میں سے صرف 3,283.078 ملین روپے خرچ کیے گئے، جس کے نتیجے میں 28.08% بجٹ بچت ہوئی۔جبکہ محکمہ کے سیکرٹری اور ڈی جی اس بارے میں لاعلم تھے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بار بار فنڈز واپس کیے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے تمام مائننگ معاہدوں تک رسائی کا مطالبہ کیا۔ چیئرمین نے کہا کہ محکمہ معدنیات کے پاس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم نہ ہونا سنگین ناکامی ہے۔
پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی گئی کہ محکمہ معدنیات کے لیے IT سسٹم کے قیام کے لیے بجٹ مختص کیا جائے۔
پبلک اکاونٹس کمیٹی نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی اس محکمے کی درست کارکردگی سے جڑی ہوئی ہے۔
محکمہ خزانہ کی تاخیر سے جوابدہی پر سخت تنقید کی گئی اور آئندہ سخت کارروائی کا عندیہ دیا گیا۔ غیر مجاز بجٹ اجرا کو اسمبلی قوانین اور حکومتی نظام کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
کمیٹی نے اعلان کیا کہ وہ مالیاتی نظم و ضبط یقینی بنانے، بلوچستان کے جائز حقوق واپس لینے اور بدانتظامی و غفلت کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پبلک اکاو نٹس کمیٹی محکمہ معدنیات کے نٹس کمیٹی نے بلوچستان کے کرتے ہوئے ملین روپے نے کہا کہ پی اے سی کیا گیا کے لیے کیا کہ
پڑھیں:
محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)محکمہ موسمیات نے وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں بارش کی پیش گوئی کردی۔رپورٹ کے مطابق بدھ کے روزاسلام آباد اور گردونواح میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ تیزہواؤں/آندھی چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش (بعض مقامات پر تیز بارش / ژالہ باری )کی توقع ہے۔ خیبرپختونخواکے بیشتر اضلاع دیر، چترال، سوات، کوہستان، مالاکنڈ، باجوڑ، شانگلہ، بٹگرام، بونیر، کوہاٹ، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، مہمند، خیبر، وزیرستان، اورکزئی، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، پشاور، مردان، ہنگو اور کرم میں کہیں کہیں تیز ہواؤں اور گرج چمک کےساتھ وقفے وقفے سے بارش (بعض مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری ) کا امکان ہے۔
وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا؟ ارکان پارلیمنٹ نے بتا دیا
پنجاب کے بیشتر اضلاع راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، وزیرآباد، لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد، اوکاڑہ، قصور، خوشاب، سرگودھا، بھکر ، میانوالی، بہاولپور، بہاولنگر، ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال، لودھراں، مظفرگڑھ، راجن پور، رحیم یار خان اور لیہ میں کہیں کہیں تیز ہواؤں/آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش (بعض مقامات پر تیز بارش اور ژالہ باری )کی توقع ہے۔بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اورخشک جبکہ جنوبی اضلاع میں شدیدگرم رہنے کی توقع۔تاہم شمال مشرقی اضلاع میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ کوئٹہ، ژوب، شیرانی، زیارت، چمن، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، بارکھان ، ڈیرہ بگٹی ، نصیر آباد، کوہلو، موسیٰ خیل، خضدار اور گردونواح میں چند مقامات پر تیز ہواؤں/آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلاؤ کے باعث شمالی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم شدید گرم اور خشک رہے گا ۔ تاہم بالائی سندھ (سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، دادو، گھوٹکی، کشمور، شکارپور) میں تیز ہواؤں/آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔کشمیر اور گلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت نوکنڈی، سبی 48، دالبندین 47اور دادو میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
مزید :