مشہور اے آئی ایپ ڈیپ سیک پر ایک اور ملک نے پابندی لگادی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
جنوبی کوریا نے بھی حساس ڈیٹا کی حفاظت کے پیشِ نظر مشہور چینی اے آئی ایپ ڈیپ سیک پر پابندی عائد کردی۔
مشرقی ایشائی ملک کی جانب سے چیٹ بوٹ کے خلاف یہ اہم اقدام گزشتہ ماہ اس ایپ کے امریکا میں انتہائی مقبول ہوجانے کی صورت میں لیا گیا ہے۔
ایپ کے ایک دم مشہور ہونے کی وجہ سے سامنے آنے والے سیکیورٹی، پرائیویسی اور اخلاقی تحفظات کے ساتھ ڈیپ سیک کا کچھ سوالات کے جوابات دینے پر انکار بھی اس پابندی کی وجہ بنا ہے۔
جنوبی کوریا کی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی کا کہنا تھا کہ اپ کی نئی ڈاؤن لوڈز اس وقت تک بند رہیں گی جب تک ایپ صارفین کے نجی ڈیٹا کو سنبھالنے کے عمل پر نظر ثانی نہین کرتی۔
سول کے پرسنل انفارمیشن پروٹیکشن کمیشن (پی آئی پی سی) کا کہنا تھا کہ ڈیپ سیک نے اس بات اعتراف کیا ہے کہ داخلی پرائیویسی قوانین کے حوالے زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈیپ سیک
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔