سعودی عرب نے پاکستان کو مؤخر ادائیگی پر 10 کروڑ ڈالر کی ماہانہ پیٹرولیم مصنوعات فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے کابینہ اجلاس کو سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے انہیں بھیجے گئے خط کے حوالے سے آگاہ کیا۔

شہباز شریف نے کہاکہ سعودی ولی عہد نے اپنے خط میں پاکستان کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے مؤخر ادائیگی کی بنیاد پر سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کی جانب سے مزید ایک سال کے لیے 100 ملین امریکی ڈالرز ماہانہ فراہمی کی تجدید کے بارے بتایا۔

انہوں نے کہاکہ سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی قیادت کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔ سعودی عرب ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

وفاقی کابینہ کو وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں ای آفس کے استعمال پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی تمام ڈویژنز میں ای آفس کا استعمال 98 فیصد تک پہنچ چکا یے اور 39 ڈویژنز میں ای آفس کا نفاذ 100 فیصد ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ بین الوزارتی روابط کے حوالے سے 21 ڈویژنز میں ای آفس کا نفاذ 100 فیصد ہو چکا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ وفاقی وزارتوں کے ماتحت اداروں اور حکومتی ملکیتی اداروں میں ای آفس کے نفاذ کا آغاز کیا جا چکا ہے جن میں سے 176 اداروں میں ای آفس کا نفاذ مکمل کرلیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بیرون ممالک پاکستانی مشنز میں خدمات کی فراہمی کے حوالے سے تمام نظام کی ڈیجیٹائزیشن کی جائے تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو خدمات کی فراہمی میں آسانی پیدا ہو سکے۔ وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ وفاقی حکومت کی تمام وزارتوں اور محکموں میں ای آفس کا نفاذ 20 مارچ 2025 تک 100 فیصد مکمل کیا جائے۔

وفاقی کابینہ نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی سفارش پر بین الاقوامی سمندری پانیوں میں متنوع سمندری وسائل کی حفاظت اور ان کے پائیدار استعمال کی حوالے سے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے سمندری قانون کے تحت بین الاقوامی قانونی معاہدے پر دستخط کی منظوری دے دی۔

وفاقی کابینہ نے وزارت وفاقی تعلیم کی سفارش پر کامران جہانگیر کی بطور مینیجنگ ڈائریکٹر نیشنل بک فاؤنڈیشن تعیناتی کی منظوری دے دی، اس اقدام سے پاکستانی ماہی گیروں کو فائدہ پہنچے گا۔

وفاقی کابینہ نے وزارت انسانی حقوق کی سفارش پر نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق میں بطور ممبر اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری تعیناتی کے لیے 6 ناموں کو وزیراعظم اور پارلیمنٹ میں لیڈر آف اپوزیشن کو بھیجنے کی منظوری دے دی۔

وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر صومالیہ کے لیے نیشنل آئیڈینٹیی سسٹم کے حوالے سے اڈینڈم 2 پر دستخط کی منظوری دے دی۔ یہ اڈینڈم ویری فکیشن سروسز، موبائیل اینرولمینٹ ایپلی کیشن اور آفیشل پیمینٹ گیٹ وے اور انفرااسٹرکچر سے متعلق ہے۔ نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی صومالیہ کی نیشنل آئیڈینٹیفکشن کے حوالے سے صومالیہ کی مدد کررہا ہے۔

وفاقی کابینہ نے وزارت بحری امور کی سفارش پر ڈاکٹر شاہد اسلم مرزا کی بطور مینجنگ ڈائریکٹر کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی تعیناتی کی منظوری دے دی۔

وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات کی روشنی میں اور وزارت قومی صحت کی سفارش پر وطیم میڈیکل کالج راولپنڈی کی رجسٹریشن کے لیے نظر ثانی درخواست قانون کی مطابق کارروائی کے لئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو بھجوانے کرنے کی منظوری دے دی۔

وفاقی کابینہ نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی سفارش پر پاکستان انجینیئرنگ کونسل کی گورننگ باڈی کے انتخابات میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے کمیشن آف انکوائری تشکیل دینے کی منظوری دے دی۔

وفاقی کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر ان لینڈ ریونیو اپیلیٹ ٹریبیونل (اپوائنٹمنٹ، ٹرمز اینڈ کنڈیشنز آف سروس) رولز، 2024 میں ترامیم کی منظوری دے دی۔

وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 14 فروری 2025 کو ہونے والے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔

وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 17 فروری 2025 کو ہونے والے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پیٹرولیم مصنوعات سعودی ولی عہد شہباز شریف شہزادہ محمد بن سلمان مؤخر ادائیگی وزیراعظم پاکستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات سعودی ولی عہد شہباز شریف مؤخر ادائیگی وزیراعظم پاکستان وی نیوز وفاقی کابینہ نے وزارت میں ای آفس کا نفاذ پیٹرولیم مصنوعات ڈویژنز میں ای آفس کی منظوری دے دی سعودی ولی عہد مؤخر ادائیگی کی سفارش پر کے حوالے سے اجلاس کو

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے