سعودی عرب کا پاکستان کو مؤخر ادائیگی پر 10 کروڑ ڈالر کی ماہانہ پیٹرولیم مصنوعات فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
سعودی عرب نے پاکستان کو مؤخر ادائیگی پر 10 کروڑ ڈالر کی ماہانہ پیٹرولیم مصنوعات فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے کابینہ اجلاس کو سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے انہیں بھیجے گئے خط کے حوالے سے آگاہ کیا۔
شہباز شریف نے کہاکہ سعودی ولی عہد نے اپنے خط میں پاکستان کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے مؤخر ادائیگی کی بنیاد پر سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کی جانب سے مزید ایک سال کے لیے 100 ملین امریکی ڈالرز ماہانہ فراہمی کی تجدید کے بارے بتایا۔
انہوں نے کہاکہ سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان اور سعودی قیادت کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔ سعودی عرب ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
وفاقی کابینہ کو وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز میں ای آفس کے استعمال پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کی تمام ڈویژنز میں ای آفس کا استعمال 98 فیصد تک پہنچ چکا یے اور 39 ڈویژنز میں ای آفس کا نفاذ 100 فیصد ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بین الوزارتی روابط کے حوالے سے 21 ڈویژنز میں ای آفس کا نفاذ 100 فیصد ہو چکا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ وفاقی وزارتوں کے ماتحت اداروں اور حکومتی ملکیتی اداروں میں ای آفس کے نفاذ کا آغاز کیا جا چکا ہے جن میں سے 176 اداروں میں ای آفس کا نفاذ مکمل کرلیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بیرون ممالک پاکستانی مشنز میں خدمات کی فراہمی کے حوالے سے تمام نظام کی ڈیجیٹائزیشن کی جائے تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو خدمات کی فراہمی میں آسانی پیدا ہو سکے۔ وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ وفاقی حکومت کی تمام وزارتوں اور محکموں میں ای آفس کا نفاذ 20 مارچ 2025 تک 100 فیصد مکمل کیا جائے۔
وفاقی کابینہ نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی سفارش پر بین الاقوامی سمندری پانیوں میں متنوع سمندری وسائل کی حفاظت اور ان کے پائیدار استعمال کی حوالے سے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے سمندری قانون کے تحت بین الاقوامی قانونی معاہدے پر دستخط کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے وزارت وفاقی تعلیم کی سفارش پر کامران جہانگیر کی بطور مینیجنگ ڈائریکٹر نیشنل بک فاؤنڈیشن تعیناتی کی منظوری دے دی، اس اقدام سے پاکستانی ماہی گیروں کو فائدہ پہنچے گا۔
وفاقی کابینہ نے وزارت انسانی حقوق کی سفارش پر نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق میں بطور ممبر اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری تعیناتی کے لیے 6 ناموں کو وزیراعظم اور پارلیمنٹ میں لیڈر آف اپوزیشن کو بھیجنے کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر صومالیہ کے لیے نیشنل آئیڈینٹیی سسٹم کے حوالے سے اڈینڈم 2 پر دستخط کی منظوری دے دی۔ یہ اڈینڈم ویری فکیشن سروسز، موبائیل اینرولمینٹ ایپلی کیشن اور آفیشل پیمینٹ گیٹ وے اور انفرااسٹرکچر سے متعلق ہے۔ نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی صومالیہ کی نیشنل آئیڈینٹیفکشن کے حوالے سے صومالیہ کی مدد کررہا ہے۔
وفاقی کابینہ نے وزارت بحری امور کی سفارش پر ڈاکٹر شاہد اسلم مرزا کی بطور مینجنگ ڈائریکٹر کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی تعیناتی کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات کی روشنی میں اور وزارت قومی صحت کی سفارش پر وطیم میڈیکل کالج راولپنڈی کی رجسٹریشن کے لیے نظر ثانی درخواست قانون کی مطابق کارروائی کے لئے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو بھجوانے کرنے کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی سفارش پر پاکستان انجینیئرنگ کونسل کی گورننگ باڈی کے انتخابات میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے کمیشن آف انکوائری تشکیل دینے کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر ان لینڈ ریونیو اپیلیٹ ٹریبیونل (اپوائنٹمنٹ، ٹرمز اینڈ کنڈیشنز آف سروس) رولز، 2024 میں ترامیم کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 14 فروری 2025 کو ہونے والے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔
وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے لیجسلیٹو کیسز کے 17 فروری 2025 کو ہونے والے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پیٹرولیم مصنوعات سعودی ولی عہد شہباز شریف شہزادہ محمد بن سلمان مؤخر ادائیگی وزیراعظم پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات سعودی ولی عہد شہباز شریف مؤخر ادائیگی وزیراعظم پاکستان وی نیوز وفاقی کابینہ نے وزارت میں ای آفس کا نفاذ پیٹرولیم مصنوعات ڈویژنز میں ای آفس کی منظوری دے دی سعودی ولی عہد مؤخر ادائیگی کی سفارش پر کے حوالے سے اجلاس کو
پڑھیں:
سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
کراچی: سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے ریلیف دینے کے لیے سفری الاؤنس اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اس فیصلے کی منظوری دی گئی، جبکہ نئی شرحوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
صوبائی کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، گورننس اور غذائی تحفظ سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی۔
بی پی ایس 1 سے 16 تک ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس
کابینہ نے بی پی ایس 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے تفریقی الاؤنس 2026 کی منظوری دی ہے۔ یہ الاؤنس منجمد بنیادی پے اسکیل 2022، جو 30 جون 2026 تک نافذ تھا، پر 2 فیصد کی شرح سے ادا کیا جائے گا۔
حکومت کے مطابق اس الاؤنس کا مقصد وہ فرق ختم کرنا ہے جو 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے وفاقی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تنخواہوں میں اضافے کے باعث پیدا ہوا تھا۔
سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ
سندھ کابینہ نے تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے سفری الاؤنس میں 50 فیصد اضافے کی بھی منظوری دی ہے۔ نئی شرحیں درج ذیل ہوں گی:
گریڈ پرانا الاؤنس نیا الاؤنس
بی پی ایس 1 تا 4 1,785 روپے 2,678 روپے
بی پی ایس 5 تا 10 1,932 روپے 2,898 روپے
بی پی ایس 11 تا 15 2,856 روپے 4,284 روپے
بی پی ایس 16 اور اس سے اوپر 5,000 روپے 7,500 روپے
معذور ملازمین کے لیے خصوصی سہولت
کابینہ نے معذور سرکاری ملازمین کے لیے خصوصی سفری الاؤنس میں بھی اضافہ کرتے ہوئے اسے 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ رقم معمول کے سفری الاؤنس کے علاوہ ادا کی جائے گی۔
اطلاق کب سے ہوگا؟
حکومت سندھ کے مطابق سفری اور تفریقی الاؤنس سے متعلق تمام منظور شدہ فیصلوں پر یکم جولائی 2026 سے عمل درآمد ہوگا اور یہ موجودہ قواعد و ضوابط کے تحت نافذ رہیں گے۔
دوسری جانب صوبائی کابینہ نے ایگزیکٹو الاؤنس دینے کی تجویز منظور نہیں کی۔ وزیر اطلاعات نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس تجویز پر فی الحال اتفاق نہیں ہو سکا۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں سرکاری ملازمین کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے سفری اخراجات میں کمی لانا ہے، جبکہ آئندہ بھی ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔