وزیراعظم کا تعلقات کے فروغ کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
وزیراعظم کا تعلقات کے فروغ کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اعادہ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 February, 2025 سب نیوز
اسلام آ باد (آئی پی ایس )وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے اسلام آباد میں تعینات امریکی ناظم الامور نتالی بیکر نے ملاقات کی۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین دہائیوں پر محیط قریبی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے دوطرفہ تعلقات کے مزید فروغ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے باہمی دلچسپی کے دیگر امور بشمول دونوں ممالک کے مابین تجارت کے مزید فروغ کے ساتھ ساتھ آئی ٹی، زراعت، صحت، تعلیم اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک انسداد دہشت گردی، بالخصوص داعش اور فتنہ الخوارج (ایف اے کے) سے لاحق خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنے قریبی تعاون کو جاری رکھیں۔ اس موقع پر امریکی ناظم الامور نتالی بیکر نے وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ نئی انتظامیہ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی خواہش کا اعادہ انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے کی شہباز شریف تعلقات کے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔