یو اے ای کیجانب سے پاکستانی مستحقین میں راشن کی تقسیم کا سلسلہ شروع
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2025 GMT
—جنگ فوٹو
متحدہ عرب امارات کی جانب سے رمضان المبارک کے موقع پر 3000 سے زائد مستحقین میں راشن تقسیم کیا جائے گا۔
شیخہ فاطمہ بنتِ مبارک کی جانب سے راشن کی تقسیم کا آغاز کاٹھور سے کردیا گیا ہے۔
کراچی میں قونصل جنرل امارات ڈاکٹر بخیت عتیق الرومیتتی نے اس سلسلے کا آغاز کیا۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے مستحقین میں حفظانِ صحت کے اصولوں کے عین مطابق راشن تیار اور فراہم کیا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد غیر ملکی امداد روکنے کا حکم دیا تھا۔
ڈاکٹر بخیت عتیق کے مطابق ہر سال کی طرح سندھ اور بلوچستان کے اضلاع میں ہزاروں خاندانوں کو راشن تقسیم کیا جائے گا، جس میں فی خاندان کے لیے 40 کلو آٹا، 20 کلو چاول، 10 کلو چینی، کھجور، 10 کلو دالیں، 5 کلو نمک و دیگر مسالہ جات، بچوں کا دودھ اور مشروبات شامل ہیں۔
قونصل جنرل کا کہنا ہے کہ یو اے ای ہمیشہ ہر تہوار پر اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کو یاد رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے 18 برس سے پاکستان بھر میں رمضان کے موقع پر راشن تقسیم کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کی جانب سے
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔