بھارت کے مشہور فلم ساز ایس ایس راجامولی پر ان کے قریبی دوست نے تشدد اور ہراساں کرنے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے پولیس سے مدد کی اپیل کی ہے۔

ایس ایس راجامولی کے قریبی دوست سری نواز راؤ نے ’’ہراسانی‘‘ کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ راجامولی نے میری زندگی برباد کردی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مشہور فلم ساز ایس ایس راجامولی اس وقت تنازعے میں گھر گئے ہیں جب ان کے ایک قریبی دوست سری نواس راؤ نے ان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے پولیس سے مدد کی اپیل کی ہے۔

سری نواس راؤ نے دعویٰ کیا کہ راجامولی کے رویے نے انہیں خودکشی تک کے خیالات پر مجبور کردیا ہے۔ سری نواس راؤ نے ایک ویڈیو اور خط کے ذریعے اپنی کہانی شیئر کی ہے۔

سری نواس کا کہنا تھا کہ وہ راجامولی کے 34 سال پرانے دوست ہیں، لیکن جب دونوں نے ایک ہی شخص کےلیے جذبات محسوس کیے، تو ان کی دوستی خطرے میں پڑگئی۔

سری نواس راؤ نے کہا، ’’مجھے خودکشی کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ راجامولی ہی کی وجہ سے میں 55 سال کی عمر میں بھی کنوارا ہوں۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے دوستی کی خاطر اس رشتے کو آگے بڑھانے سے انکار کردیا، لیکن بعد میں راجامولی نے ان کے خلاف ہوکر ان کی زندگی اجیرن کردی۔ سری نواس راؤ نے کہا، ’’ہم نے یامادونگا فلم تک ساتھ کام کیا، لیکن ایک عورت کی وجہ سے انہوں نے میرا کیریئر تباہ کردیا۔‘‘

سری نواس راؤ کا کہنا تھا کہ جب راجامولی سپر اسٹارڈم کے عروج پر پہنچے، تو انہوں نے ان کی وفاداری پر سوال اٹھانا شروع کردیا اور انہیں مسلسل ہراساں کرنے لگے۔ انہوں نے کہا، ’’میں اب 55 سال کا ہوں اور اس ہراسانی کو مزید برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘

انہوں نے یہاں تک کہا کہ راجامولی نے انڈسٹری میں اپنے حریفوں کو ختم کرنے کےلیے ’’کالے جادو‘‘ تک کا سہارا لیا ہے۔ سری نواس راؤ نے کہا کہ ’’میں پولیس اہلکاروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں اور مجھے انصاف دلائیں۔‘‘

ایس ایس راجامولی اور ان کی ٹیم نے اب تک ان الزامات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ راجامولی، جو بڑے بجٹ کی فلمیں بنانے اور فکشن و فینٹسی کو یکجا کرنے کےلیے مشہور ہیں، اس وقت مہیش بابو کے ساتھ فلم ایس ایس ایم بی 29 کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔ افواہوں کے مطابق، پریانکا چوپڑا بھی اس فلم کا حصہ ہوں گی، لیکن ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: ایس ایس راجامولی سری نواس راؤ نے انہوں نے نے کہا

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں