مشہور بھارتی فلم ساز پر ’’قریبی‘‘ دوست نے تشدد اور ’’ہراسانی‘‘ کا الزام لگادیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
بھارت کے مشہور فلم ساز ایس ایس راجامولی پر ان کے قریبی دوست نے تشدد اور ہراساں کرنے کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے پولیس سے مدد کی اپیل کی ہے۔
ایس ایس راجامولی کے قریبی دوست سری نواز راؤ نے ’’ہراسانی‘‘ کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ راجامولی نے میری زندگی برباد کردی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مشہور فلم ساز ایس ایس راجامولی اس وقت تنازعے میں گھر گئے ہیں جب ان کے ایک قریبی دوست سری نواس راؤ نے ان پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے پولیس سے مدد کی اپیل کی ہے۔
سری نواس راؤ نے دعویٰ کیا کہ راجامولی کے رویے نے انہیں خودکشی تک کے خیالات پر مجبور کردیا ہے۔ سری نواس راؤ نے ایک ویڈیو اور خط کے ذریعے اپنی کہانی شیئر کی ہے۔
سری نواس کا کہنا تھا کہ وہ راجامولی کے 34 سال پرانے دوست ہیں، لیکن جب دونوں نے ایک ہی شخص کےلیے جذبات محسوس کیے، تو ان کی دوستی خطرے میں پڑگئی۔
سری نواس راؤ نے کہا، ’’مجھے خودکشی کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ راجامولی ہی کی وجہ سے میں 55 سال کی عمر میں بھی کنوارا ہوں۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے دوستی کی خاطر اس رشتے کو آگے بڑھانے سے انکار کردیا، لیکن بعد میں راجامولی نے ان کے خلاف ہوکر ان کی زندگی اجیرن کردی۔ سری نواس راؤ نے کہا، ’’ہم نے یامادونگا فلم تک ساتھ کام کیا، لیکن ایک عورت کی وجہ سے انہوں نے میرا کیریئر تباہ کردیا۔‘‘
سری نواس راؤ کا کہنا تھا کہ جب راجامولی سپر اسٹارڈم کے عروج پر پہنچے، تو انہوں نے ان کی وفاداری پر سوال اٹھانا شروع کردیا اور انہیں مسلسل ہراساں کرنے لگے۔ انہوں نے کہا، ’’میں اب 55 سال کا ہوں اور اس ہراسانی کو مزید برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘
انہوں نے یہاں تک کہا کہ راجامولی نے انڈسٹری میں اپنے حریفوں کو ختم کرنے کےلیے ’’کالے جادو‘‘ تک کا سہارا لیا ہے۔ سری نواس راؤ نے کہا کہ ’’میں پولیس اہلکاروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں اور مجھے انصاف دلائیں۔‘‘
ایس ایس راجامولی اور ان کی ٹیم نے اب تک ان الزامات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ راجامولی، جو بڑے بجٹ کی فلمیں بنانے اور فکشن و فینٹسی کو یکجا کرنے کےلیے مشہور ہیں، اس وقت مہیش بابو کے ساتھ فلم ایس ایس ایم بی 29 کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔ افواہوں کے مطابق، پریانکا چوپڑا بھی اس فلم کا حصہ ہوں گی، لیکن ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ایس ایس راجامولی سری نواس راؤ نے انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔
وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔
مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔
مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔