Daily Ausaf:
2026-07-24@13:14:33 GMT

BYDنےپاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی فراہمی کا آغازکردیا

اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT

کراچی(نیوز ڈیسک)میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے اشتراک سے دنیا کے سب سے بڑے نیو انرجی وہیکلز (این ای وی) بنانے والے ادارے بی وائی ڈی نے پاکستان میں گاڑیوں کی فراہمی کا آغاز کر دیا، اور اس کا مقصد آپریشنز کے پہلے 48 گھنٹوں میں 100 گاڑیاں فراہم کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں صارفین کو جمعہ سے ان کی بی وائی ڈی گاڑیاں ملنا شروع ہوگئی ہیں، ایم ایم سی نے اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے اہم مقامات پر بی وائی ڈی کے شوروم اور سروس سینٹرز قائم کیے ہیں، این ای وی کی متوقع زیادہ طلب کو دیکھتے ہوئے بی وائی ڈی اور ایم ایم سی 2025 میں 15 مراکز کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بی وائی ڈی پاکستان کے کنٹری ہیڈ لی جیان نے کہا کہ کمپنی کی این ای ویز اور ٹیکنالوجیز پاکستان کے ماحول دوست ترقی کے سفر میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
مزیدپڑھیں:نیوزی لینڈ، بھارت، آسٹریلیا کے بعد جنوبی افریقہ بھی سیمی فائنل میں پہنچ گیا، افغان ٹیم باہر

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بی وائی ڈی

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف کا کیا گیا وعدہ پورا، 10 جدید الیکٹرک بسوں کا تحفہ آزاد کشمیر روانہ
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال