بالی ووڈ کے مشہور اداکار سنیل شیٹی نے ایک ایسے واقعے کا انکشاف کیا ہے جو نہ صرف ان کی زندگی کا ایک مشکل ترین لمحہ تھا، بلکہ اس میں ایک پاکستانی شہری نے ان کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

بالی ووڈ اداکار کے مطابق یہ واقعہ 2001 کا ہے، جب امریکا میں 9/11 کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد فضا میں شدید تناؤ تھا۔ سنیل شیٹی اس وقت لاس اینجلس میں فلم ’کانٹے‘ کی شوٹنگ میں مصروف تھے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح ایک معمولی سی غلط فہمی نے انہیں ایک خطرناک صورتحال میں ڈال دیا، اور پھر ایک پاکستانی نژاد شخص نے انہیں اس مشکل سے نکالا تھا۔

سنیل نے بتایا کہ 9/11 کے واقعے کے کچھ دن بعد، جب شوٹنگ دوبارہ شروع ہوئی، وہ ہوٹل میں داخل ہو رہے تھے۔ لفٹ میں جانے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ وہ اپنی چابیاں بھول گئے ہیں۔ انہوں نے لفٹ میں موجود ایک امریکی شخص سے پوچھا، ’’کیا آپ کے پاس چابی ہے؟ میں اپنی چابیاں بھول گیا ہوں۔‘‘ لیکن اس شخص نے سنیل کے اشارے کو غلط سمجھا اور فوراً باہر بھاگ کر پولیس کو اطلاع دے دی۔

کچھ ہی دیر میں مسلح پولیس اہلکاروں نے سنیل کو گھیر لیا اور انہیں گھٹنوں کے بل بٹھا کر ہتھکڑیاں پہنا دیں۔ سنیل نے بتایا کہ وہ اس وقت مکمل طور پر حیران اور خوفزدہ تھے، کیونکہ انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔

اس مشکل ترین لمحے میں ہوٹل کے منیجر، جو ایک پاکستانی نژاد شخص تھے، نے مداخلت کی۔ ہوٹل منیجر نے پولیس کو بتایا کہ سنیل شیٹی ایک مشہور بھارتی اداکار ہیں اور وہ کسی طور خطرناک نہیں ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے سنیل کو رہا کر دیا۔

سنیل نے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا، ’’یہ ایک ناقابل یقین تجربہ تھا۔ ہر طرف افراتفری مچی ہوئی تھی، اور مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آگے کیا ہوگا۔ لیکن ہوٹل کے منیجر کی مدد کے بغیر شاید میں اس صورتحال سے باہر نہ نکل پاتا۔‘‘

سنیل شیٹی نے اس واقعے کے بعد اپنے تجربے کو شیئر کرتے ہوئے اس پاکستانی شخص کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے نہ صرف ان کی جان بچائی بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ انسانیت کسی بھی سرحد سے بالاتر ہے۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: ایک پاکستانی سنیل شیٹی بتایا کہ کے بعد

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ