UrduPoint:
2026-07-24@13:05:19 GMT

لبلبے کے کینسر کا علاج شاید بہتر طور پر ممکن ہو

اشاعت کی تاریخ: 2nd, March 2025 GMT

لبلبے کے کینسر کا علاج شاید بہتر طور پر ممکن ہو

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 مارچ 2025ء) لبلبے کے کینسر پر کی گئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس مرض کی تشخیص کے پانچ سال بعد اس میں مبتلا ہر دس افراد میں سے صرف ایک زندہ رہ پاتا ہے۔ سرطان کی اس قسم کے حوالے سے مزید بتایا جاتا ہے کہ اس کے کامیاب علاج میں ایک بڑی رکاوٹ ٹیومر کی جلدی شناخت نہ ہونا ہے۔ ساتھ ہی ٹیومر کو جسم سے ہٹانے کے طریقہ کار کا تعین کرنا بھی ضروری ہے۔

تاہم اب سائنسدانوں نے اس حوالے سے کچھ پیش رفت کی ہے، جس سے دنیا بھر میں اس مرض کا شکار تقریباﹰ پانچ لاکھ افراد میں کچھ امید پیدا ہوئی ہے۔

سِسٹ کے حوالے سے تحقیق

لبلبے کے کینسر کے علاج میں اس کی جلد تشخیص کافی اہمیت کی حامل ہے اور اس حوالے سے تحقیق بھی ہو رہی ہے۔

(جاری ہے)

ایسی ہی ایک کوشش آئرلینڈ کے ٹرنٹی کالج ڈبلن سے وابستہ آنکالوجسٹ اسٹیفن مائر اور ان کی ٹیم نے کی ہے۔

اس ٹیم کا ایک مطالعہ سائنٹیفک رپورٹس نامی ایک جریدے میں شائع ہوا، جس میں لبلبے کے کینسر کے ڈیٹا سیٹس کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس جائزے کی بنیاد پر 10 قسم کے پروٹین اور مائیکر آر این اے بائیو مارکرز کی شناخت کی گئی ہے۔

بائیو مارکر انسانی جسم میں موجود وہ مٹیریل ہوتا ہے، جس سے امراض کی موجودگی کا پتا چلتا ہے۔ ماہر اور ان کی ٹیم کی جانب سے اس کی دس اقسام کی شناخت کے بعد یہ معلوم کرنا ممکن ہو سکے گا کہ لبلبے کی کوئی سِسٹ سرطان کے خطرے کی علامت ہے یا نہیں۔

جُوں سے جلد، جگر اور لبلبے کے کینسر کا علاج ممکن

’ابتدائی مراحل میں تشخیص کا ٹیسٹ‘

اسی طرح امریکہ کی اوریگون ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کی ایک ٹیم نے ایسا ٹیسٹ تیار کیا ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اس سے لبلبے کے سرطان کی تشخیص مرض کے ابتدائی مراحل میں ممکن ہو گی۔ اس ٹیم کے مطابق اگر اس ٹیسٹ کو پہلے سے موجود ٹیسٹوں کے ساتھ کیا جائے، تو نتائج کی درستگی کی شرح 85 فیصد ہو گی۔

اس تحقیق کے مرکزی مصنف جیرڈ فشر کا کہنا ہے کہ لبلبے کے کینسر کی ابتدائی علامات کی شناخت ''موت اور زندگی کے درمیان کا فرق‘‘ ہو سکتی ہے، یعنی اس کے شکار افراد کی زندگی بچانے کے لیے کافی موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم ڈی ڈبلیو سے گفتگو کے دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ بہتر تشخیص لبلبے کے کینسر کے علاج کا بس ایک پہلو ہے۔ بقول ان کے، ''ہمیں بہتر امیجنگ کی بھی ضرورت ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کی ٹیومر کہاں موجود ہے۔

اور اس کے بہتر علاج کی بھی ضرورت ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہو تو نامکمل علاج کی صورت میں لبلبے کے ٹیومر کا پہلے سے بھی بدتر ہونے کا خدشہ ہو گا۔

علاج کے حوالے سے پیش رفت

ہائیڈل برگ کے جرمن کینسر ریسرچ سینٹر کی ایک ٹیم حالیہ دنوں میں تحقیق کے دوران اس نتیجے پر پہنچی کہ لبلبے کے ٹیومر پاس موجود نرو سیلز میں داخل ہو کر ان میں تبدیلیوں کا سبب بنتے ہیں، جس سے ٹیومر کے بڑھنے کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔

محققین کی یہ ٹیم چوہوں میں سرجری یا مخصوص ادویات کے ذریعے ان سیلز میں متاثرہ نیورونز کا لنک کاٹ کر انہیں علحیدہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انسانوں کے لیے ایسا علاج ممکن ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

(میتھیو وارڈ) م ا/ ر ب

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے لبلبے کے کینسر حوالے سے کا کہنا ممکن ہو

پڑھیں:

پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی

پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی WhatsAppFacebookX 0 24 July, 2026 سب نیوز


جدہ (خالد نواز چیمہ) پاکستان کے قونصل جنرل برائے جدہ سید مصطفیٰ ربانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو مستحکم بنانے اور زرمبادلہ میں خاطر خواہ اضافے کے لیے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کو مربوط، مؤثر اور عملی سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ قونصلیٹ جنرل پاکستان، جدہ پاکستانی سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کی ہر ممکن رہنمائی اور تعاون کے لیے ہمیشہ دستیاب ہے، جبکہ قونصلیٹ کے دروازے ان کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔
وہ پاکستان انویسٹر فورم (PIF) کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ و عشائیہ سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں سعودی عرب میں مقیم ممتاز پاکستانی سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات، کمیونٹی رہنماؤں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی نے کہا کہ سعودی عرب وژن 2030 کے تحت سرمایہ کاری، تجارت اور صنعتی ترقی کے حوالے سے دنیا کے تیزی سے ابھرتے ہوئے ممالک میں شامل ہے، جہاں سرمایہ کاروں کے لیے شفاف، محفوظ اور جدید نظام قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سرمایہ کاروں کو اس سازگار ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے کاروبار کو وسعت دینی چاہیے تاکہ نہ صرف وہ اپنی کامیابیوں میں اضافہ کریں بلکہ پاکستان میں سرمایہ کاری، برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافے کے ذریعے قومی معیشت کو بھی مضبوط بنانے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے پاکستان انویسٹر فورم سعودی عرب کے چیئرمین چوہدری شفقت محمود کو عہدہ سنبھالنے پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں فورم سعودی عرب میں پاکستانی سرمایہ کاروں کو مزید منظم، متحد اور فعال بنائے گا اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو نئی جہت دے گا۔ انہوں نے فورم کے ساتھ مکمل تعاون اور مضبوط رابطوں کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
اس موقع پر پاکستان انویسٹر فورم سعودی عرب کے چیئرمین چوہدری شفقت محمود نے کہا کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کو ایک مضبوط پلیٹ فارم پر متحد کرنا فورم کا بنیادی مقصد ہے۔ اسی وژن کے تحت حال ہی میں ریاض اور مشرقی صوبہ (دمام) میں پاکستان ایگزیکٹو فورم کو فعال کیا گیا ہے، جس کے چیئرمین منیر احمد شاد مقرر کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان انویسٹر فورم (PIF)، ریاض، مشرقی صوبہ (دمام) اور پاکستان ایگزیکٹو فورم کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے جا چکے ہیں، جس کے ذریعے سعودی عرب بھر کے پاکستانی سرمایہ کاروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لا کر باہمی تعاون، مشترکہ سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
چوہدری شفقت محمود نے بتایا کہ فورم کی مسلسل کاوشوں کے نتیجے میں 124 ملین، 38 ملین، 7 ملین اور 3 ملین مالیت کے متعدد اہم کاروباری معاہدے طے پا چکے ہیں، جو پاکستانی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور فورم کی کامیاب حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں پاکستان انویسٹر فورم کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے سوڈان کا دورہ کیا، جہاں معدنیات، توانائی، زراعت، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات پر اعلیٰ حکام سے تفصیلی مذاکرات کیے گئے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا بورڈ آف انویسٹمنٹ کے ساتھ ہونے والے آن لائن اجلاس میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے زراعت، سیاحت، معدنیات، توانائی، آئی ٹی اور دیگر ترقی پذیر شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پاکستان انویسٹر فورم کے سیکریٹری جنرل عبدالخالق لک نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک مضبوط، منظم اور خوشحال پاکستانی کمیونٹی ہی کسی بھی ملک میں کامیاب قوم کی پہچان ہوتی ہے۔ انہوں نے تعلیم، صحت، رہائشی منصوبوں، نوجوانوں کی فنی تربیت، کاروباری رہنمائی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی فلاح و بہبود، باہمی اتحاد، مثبت سوچ اور مشترکہ ذمہ داریوں کے احساس سے ہی مضبوط اور باوقار کمیونٹی تشکیل پاتی ہے۔
تقریب کے اختتام پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان انویسٹر فورم سعودی عرب پاکستانی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور نوجوان کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے، پاکستان میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے، برآمدات بڑھانے اور دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط اقتصادی شراکت داری مستقبل میں دونوں ممالک کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے نئے امکانات پیدا کرے گی۔
۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی اگلی خبربرطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا کیوبا کے سفارتخانے میں فوٹو نمائش کے ذریعے فیڈل کاسترو کی صد سالہ تقریبات کا انعقاد چینی وزیر خارجہ سے ملاقات، علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر اسحاق ڈار کا اظہارِ تشکر برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان