پشاور؛ بی آر ٹی روٹس پر چلنے والی بسوں، ویگنوں کے خاتمے کیلئے72 گھنٹوں میں رپورٹ طلب
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
پشاور(نیوز ڈیسک)خیبرپختونخوا حکومت نے بی آرٹی روٹس پر چلنے والی بسوں اور ویگنوں کے خاتمے سے متعلق 72 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی۔ حکومت کی جانب سے پشاور میں بی آر ٹی روٹس پر چلنے والے مسافر بسوں اور ویگنوں کے مکمل خاتمے کے لئے ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو 72 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے رپورٹ طلب کی گئی۔ کمشنر پشاور کو ہدایت کی گئی ہے کہ بسوں کو جرمانے اور چند دن تحویل میں لیکر دوبارہ چھوڑنے کے بجائے فوری طور پر اسکریپ کیا جائے۔یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک ہیوی ٹرانسپورٹ پر پابندی رمضان المبارک میں بھی برقرار رہے گی۔ ٹرانس پشاور کو ورسک روڈ اور دیگر علاقوں تک بی آر ٹی سروس کو وسعت دینے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہے۔
اس حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی ہدایات پر کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود کی زیر صدارت اجلاس میں چیف ایگزیکٹو ٹرانس پشاور محمد عمران، سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی ابرار وزیر، ڈائریکٹر ایکسائز جاوید خلجی، ایس پی ٹریفک پشاور کینٹ ذکا اللہ ،اسسٹنٹ کمشنر ٹاؤن ہارون سلیم اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر پشاور ڈویژن ریاض خان محسود نے کہا کہ بی آر ٹی سروس شروع ہونے سے قبل بی آر ٹی روٹس پر چلنے والے 504 پرمٹ ہولڈر بسوں اور ویگنوں کو بھاری معاوضوں کی ادائیگی کی جاچکی ہے جس کے بعد پنجاب اور دیگر اضلاع سے ویگنوں اور بسوں کو لاکر بی آر ٹی روٹس پر چلایا جارہا ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔ بسوں اور ویگن مالکان کو زیادہ نقصان سے بچانے کے لیے متعدد بار بسوں اور ویگنوں کو تحویل میں لیکر جرمانے عائد کئے گئے اور ان کی جانب سے دوبارہ نہ چلانے اور دیگر اضلاع منتقل کرنے کی بیان حلفی بھی جمع کرادی گئی مگر حوالگی کے چند دنوں بعد دوبارہ سڑکوں پر آجاتے ہیں لہذا ان سے کسی بھی قسم کی کوئی رعایت نہ برتی جائے۔
کمشنر پشاور ڈویژن نے چیف ایگزیکٹو ٹرانس پشاور کو ورسک روڈ اور دیگر علاقوں تک توسیع دینے کے لیے اقدامات میں تیزی لانے کی ہدایات بھی جاری کی جبکہ یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے تمام ہیوی ٹریفک پر صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک پابندی رمضان المبارک میں بھی برقرار رکھنے کے احکامات جاری کئے۔
ایران کے نائب صدر برائے اسٹریٹجک امور جواد ظریف مستعفی ہو گئے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بی ا ر ٹی روٹس پر کمشنر پشاور اور دیگر کے لیے
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز