Daily Sub News:
2026-07-24@16:02:36 GMT

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد کا بڑا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد کا بڑا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد کا بڑا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 3 March, 2025 سب نیوز

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے عدالتی اختیار سے متعلق قانونی قانونی نقطہ واضح کردیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہورہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا، عدالت نے درخواستگزار صائمہ الطاف کی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا مسترد کردی ، عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے درخواست گزار کا دعویٰ مسترد کرنے کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔

جسٹس ملک اویس خالد نے فیصلے میں لکھا کہ ریکارڈ کے مطابق ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کو شواہد پیش کرنے کے متعدد مواقع فراہم کیے ، متعدد مواقعوں کے باوجود درخواست گزار شواہد پیش کرنے کی بجائے تاخیری حربے استعمال کرتا رہا، یکارڈ کے مطابق ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کو ڈیرھ برس تک گواہ پیش کرنے کے مواقع دیئے۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ اس عرصے کے دوران درخواست گزار نے ایک بھی گواہ کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش نہیں کیا ، عدالت کے پاس قانون کے مطابق دعوے کی کارروائی کو آگے بڑھانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا ، عدالتوں کو اپنے فیصلوں پر سختی سے اور بغیر کسی استثنیٰ کے عملدرآمد کرانا چاہیے۔

عدالتی فیصلےمیں مزید لکھا گیا کہ اس کیس کو اس اینگل کے ساتھ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹرائل کورٹ میں دعویٰ تین برس تک چلتا رہا دوسرا فریق اس کیس میں تین برس تک مقدمے کی اذیت سے گزرتا رہا، ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کا دعویٰ درست طور پر مسترد کیا۔

عدالت نے تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا ہے، جسٹس مسعود عابد نقوی اور جسٹس ملک اویس خالد پر مشتمل دو رکنی بنچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کے جسٹس ملک اویس خالد

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی