پشاور ہائیکورٹ: فیصل جاوید کا نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کرنے پر وفاق سے رپورٹ طلب
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
پشاور:
پشاور ہائیکورٹ نے سینیٹر فیصل جاوید کا نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کرنے پر وفاق سے رپورٹ طلب کرلی۔
پشاور ہائیکورٹ میں سینیٹر فیصل جاوید کا نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کرنے سے متعلق درخواست پر جسٹس وقار احمد اور جسٹس ثابت اللہ خان نے سماعت کی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کے دفتر سے جواب طلب کر لیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فیصل جاوید کا نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کیا گیا ہے اور انہیں عمرہ کے لیے جانا ہے، لیکن ایئرپورٹ پر روکے جانے کا خدشہ ہے، عدالت نے وفاقی حکومت سے کل تک رپورٹ طلب کر لی۔
دریں اثنا عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو باہر نکالنے کے لیے ملک بھر میں پرامن احتجاج کریں گے، ملک گیر احتجاج سے حکومت پر پریشر پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ آزادی رائے پر قدغن لگائی جا رہی ہے، وفاقی حکومت مزید نفرتوں کو ہوا دے رہی ہے، ہم ملک میں قانون کی بالادستی کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسٹاپ لسٹ میں فیصل جاوید کا نام
پڑھیں:
سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس، پنجاب حکومت کے فیصلے پر وفاقی آئینی عدالت کا سخت اظہارِ تشویش
وفاقی آئینی عدالت میں سیمنٹ پیداوار رائلٹی کیس کی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے رائلٹی کے نفاذ کے طریقۂ کار پر عدالت نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں مختلف قانونی نکات اور رائلٹی کے دائرہ کار پر تفصیلی ریمارکس دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ رائلٹی کا نفاذ معدنیات پر ہونا چاہیے نہ کہ سیمنٹ کی تیار شدہ بوری پر، کیونکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی عائد کرنے سے اس کا بوجھ بالآخر عوام پر منتقل ہوگا۔ جسٹس روزی خان نے کہا کہ فیکٹری مالکان کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ رائلٹی کا اثر عام صارف تک پہنچتا ہے، جس سے سیمنٹ کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ حکومت فینش پروڈکٹ پر رائلٹی کیسے وصول کر سکتی ہے اور کیا اس کے نتیجے میں سیمنٹ کی بوری کی قیمت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنے لاء افسران کو اس معاملے پر واضح ہدایات دینی چاہئیں کہ اس نوعیت کا نفاذ قانونی طور پر مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
عدالت میں وکیل احسن بھون نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت صرف معدنیات پر رائلٹی وصول کر سکتی ہے، جبکہ فینشڈ پروڈکٹ پر رائلٹی دراصل ایک بالواسطہ ٹیکس کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی بوری پر رائلٹی کا نفاذ دراصل ڈبل ایکسائز ٹیکس کی وصولی کے برابر ہے۔
دورانِ سماعت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت سے مزید ہدایات لینے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے مزید وقت فراہم کر دیا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت رائلٹی کیس سیمنٹ کیس وفاقی آئینی عدالت