Express News:
2026-07-24@14:37:59 GMT

ملک میں جی ڈی پی کی گروتھ بہت ہی کم ہو رہی ہے

اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT

لاہور:

گروپ ایڈیٹر ایکسپریس ایاز خان کا کہنا ہے ہمارے ہاں جب بھی رمضان کا چاند چڑھے یا کوئی آئی ایم ایف کا چاند چڑھے، اس کے ساتھ مہنگائی نے لازمی آنا ہوتا ہے، یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں، یہ شرط ہے کہ چاند مہنگائی کے بغیر آیا ہی نہیں کرتا، اسے شاید ڈر لگتا ہے کہ پتہ نہیں کیا ہو جائے گا۔ 

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپرٹس میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ رمضان شروع ہوتے ہی پھل بھی مہنگے ہو جاتے ہیں، آئی ایم ایف کے وفد سے بھی مذاکرات جاری ہیں ابھی ایک وہ طوفان آنے والا ہے، اشرافیہ کو قیمتیں بڑھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ 

تجزیہ کار فیصل حسین نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں سیدھا سیدھا طلب اور رسد کا فارمولا ہے ، اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے، آج فروٹ جس ریٹ پر بک رہا ہے دس رمضان کے بعد اس کا ریٹ خود بخود گر جائے گا، بیس رمضان کے بعد اور گر جائے گا، یہ ہمیشہ سے ہے اس کو آپ روکنا چاہیں تو بھی نہیں روک سکیں گے،آپ طے کر لیں کہ ایک ہفتہ فروٹ نہیں کھانا فروٹ کھائے بغیر ہم اور آپ زندہ رہ سکتے ہیں۔ 

تجزیہ کار نوید حسین نے کہا کہ مہنگائی کم نہیں ہوئی، ہمیں اپنے دیکھنے والوں اور سننے والوں پر یہ واضح کرنا چاہیے مہنگائی بڑھنے کی شرح کم ہوئی ہے، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک سال پہلے ایک چیز جتنے کی تھی وہ سستی ہو گئی ہے، ملک میں جی ڈی پی گروتھ نہیں ہو رہی اگر ہو رہی ہے تو بہت ہی کم ہو رہی ہے، جب جی ڈی پی گروتھ کم ہو گی تو روزگار کے مواقع کم ہوں گے، بیروزگاری کی شرح ساڑھے نو فیصد ہے۔ 

تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا کہ اگر مہنگائی چالیس فیصد تک بڑھ گئی تھی اور اب اگر وہ پانچ فیصد کے پاس آگئی ہے تو مہنگائی کا رکنا بھی آج کے دور میں سب سے بڑا تحفہ ہے، افراط زر اگر اٹھائیس فیصد سے ساڑھے پانچ فیصد پر آیا ہے تو یہ بھی ایک بہتری کی علامت ہے کہ اگر بڑھتا جاتا تو میں اور آپ تقریر کے علاوہ کیا کر سکتے تھے، ایشو یہ ہے کہ بہتری کی طرف سفر شروع ہے، مہنگائی کے بڑھنے میں کچھ رکاوٹ آئی ہے۔ 

تجزیہ کار محمد الیاس نے کہا کہ رمضان سے پہلے بھی انتظامیہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن یہ چیزیں کنٹرول نہیں ہوتیں، ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کا جو گیپ ہے ادھر یہی ہوتا ہے، صرف پھل ہی نہیں، دودھ اور دہی کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے،حکومت نے دس ہزار روپے دینے کی جو مہم شروع کی ہے وہ ایک اچھا اقدام ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تجزیہ کار نے کہا کہ ہو رہی

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔

آج کاروبار کے پہلے نصف حصے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی کا شکار ہوگیا۔

دوپہر 12 بج کر 5 منٹ پرانڈیکس 170,475.30 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1,264.14 پوائنٹس یعنی 0.74 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی کشیدگی سے سرمایہ کار محتاط، پاکستان اسٹاک مارکیٹ مندی سے دوچار

مارکیٹ میں فروخت کا رجحان آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور بجلی پیدا کرنے والے شعبوں میں نمایاں رہا۔

حب پاور، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، ماری انرجیز، او جی ڈی سی ایل، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور نیشنل بینک جیسے زیادہ وزن رکھنے والے شیئرز مندی کے ساتھ کاروبار کرتے رہے۔

Market is down at midday ????
⏳ KSE 100 is negative by -1253.65 points (-0.73%) at midday trading. Index is at 170,485.8 and volume so far is 113.98 million shares (12:00 PM) pic.twitter.com/DtJJR8AXhS

— Investify Pakistan (@investifypk) July 24, 2026

جمعرات کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید دباؤ کا شکار رہی تھی، جب کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یعنی 1.54 فیصد کمی کے بعد 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی نے سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر فروخت دیکھنے میں آئی۔

عالمی منڈیوں میں بھی مندی

عالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کو نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 100.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

گزشتہ روز اس میں تقریباً 7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا اور قیمت مختصر طور پر 102 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔

مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟

تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایران سے منسلک حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے باعث سامنے آیا، جس سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے 60 تجارتی شراکت دار ممالک کی درآمدات پر مزید ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے نے بھی مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

مالیاتی منڈیوں میں یہ توقع بھی زور پکڑ رہی ہے کہ عالمی مرکزی بینک سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتے ہیں۔

سرمایہ کاروں کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ ہفتے ہی شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ستمبر میں شرح سود بڑھانے کا امکان تقریباً یقینی سمجھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: لائیو اسٹاک اور زراعت پر توجہ دے کر ایک سال میں معیشت بہتر کی جا سکتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف

ادھر یورپی مرکزی بینک نے اگرچہ اپنی حالیہ میٹنگ میں شرح سود برقرار رکھی، تاہم مالیاتی منڈیوں میں ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات تقریباً 70 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔

ایشیائی منڈیوں میں ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس میں ایک فیصد، جاپان کے نکی انڈیکس میں 2.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آبنائے ہرمز آئل ٹینکر اسٹاک ایکسچینج انڈیکس بحیرہ احمر پاکستان حبیب بینک حوثی سیمنٹ مانیٹری پالیسی میزان بینک نیشنل بینک

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے قرضوں پر مارک اپ کی شرح 11.89 فیصد سالانہ مقرر کردی
  • گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
  • ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ مہنگی، 8 سستی ہوئیں، رپورٹ
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ