نیوزی لینڈ کے خلاف منتخب ٹیم من وعن وہی ہے جس نے چیمپیئنز ٹرافی میں قومی پرچم سرنگوں کیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, March 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے منتخب ٹیم من وعن وہی ہے جس نے چیمپیئنز ٹرافی میں قومی پرچم سرنگوں کیا تھا بس ٹیم سے کراچی کی نمائندگی ختم کردی گئی ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کی چیمپیئنز ٹرافی میں شرمناک کارکردگی کے بعد عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے چیئرمین کرکٹ بورڈ نے قوم کو یقین دلایا تھا کہ اس بدترین کارکردگی کے ہر ذمہ دار کو سخت سزا دی جائے گی اور جن لوگوں نے قوم کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی ہے ان کا حساب ہوگا۔
چیئرمین کرکٹ بورڈ محسن نقوی جو اپنی تیز رفتاری اور جانفشانی کے لیے مشہور ہیں، انہوں نے باحیثیت چیئرمین اپنی انتظامی ذمہ داریاں تو بخیر و خوبی انجام دی لیکن وہ پاکستان کرکٹ کے بدمست ہاتھیوں کو سنبھالنے میں ناکام رہے۔ یہ کھلاڑی جو ہر دور میں مختلف حیلے بہانوں سے ٹیم میں واپس آجاتے ہیں، ان کی سرپرستی سابق ٹیسٹ کرکٹرز کررہے ہیں جو پس پردہ پروموشن کمپنیز چلارہے ہیں۔ ایک سابق ٹیسٹ کرکٹر نے تو چیف سیلیکٹر ہوتے ہوئے پروموشن کمپنی بنائی اور اس کے کاروبار کے لیے کھلاڑیوں پر دباؤ ڈالا گیا۔ اس وقت کے پی سی بی چیئرمین نے انکوائری کمیٹی بنائی تھی لیکن اس کمیٹی کا آج تک کوئی اجلاس نہ ہوسکا اور نہ کسی کو معاہدہ کی شقیں توڑنے پر سزا مل سکی۔
اب وہی سابق ٹیسٹ کرکٹر اور ان کے پرانے پیٹی بند بھائی مل کر ایک بار پھر پاکستانی ٹیم میں اپنی پسند کے کھلاڑی منتخب کرارہے ہیں اور جس بے شرمی سے سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے ایک ایسے کھلاڑی کو کپتان بنوانے کے لیے تحریک چلائی جو ٹیم میں شامل بھی نہیں تھا وہ صرف ہمارے معاشرہ میں ہی ہوسکتا ہے۔
من و عن وہی ٹیم
چیمپیئنز ٹرافی کی شرمناک کارکردگی کے بعد قوم کے ساتھ ایک بار پھر ہاتھ ہوگیا ہے اور وہ کھلاڑی جن کی اس ایونٹ میں کارکردگی کا گراف افغانستان اور بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں سے بھی بدتر تھا، وہ ایک بار پھر منتخب ہوگئے ہیں جبکہ جس کھلاڑی نے سب سے زیادہ رنز بنائے اسے دونوں فارمیٹ سے نکال دیا گیا ہے۔
سعود شکیل جو بھارت کے خلاف دبئی میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی تھے، انہیں اس کارکردگی پر یہ صلہ ملا کہ انہیں ٹیم سے ہی ڈراپ کردیا گیا۔ ستم بالائے ستم کہ لاہور میں جب چیف کوچ عاقب جاوید ٹیم کا اعلان کررہے تھے تو کسی لاہوری صحافی نے سوال تک نہیں کیا کہ سعود شکیل کیوں ڈراپ ہوئے۔
سفارشی کھلاڑی فہیم اشرف بغیر کسی کارکردگی کے دوبارہ منتخب ہوگئے لیکن عامر جمال کا کوئی ذکر نہیں۔ ٹیم کے بقیہ منتخب 15 کھلاڑیوں میں نیا اضافہ عرفان خان نیازی محمد علی اور وسیم جونیئر ہیں۔ عرفان خان کو جنوبی افریقہ کے دورے کے بعد ڈراپ کیا گیا تھا۔ اب انہوں نے نہ معلوم کون سا ہمالیہ سر کرلیا جو دو ماہ بعد انہیں ٹیم میں دوبارہ شامل کرلیا گیا ہے۔ محمد علی اور وسیم جونیئر نے بھی کوئی تیر نہیں مارا لیکن محمد حسنین بغیر کھیلے باہر ہوگئے یا شاید وہ پانی پلانے میں سستی کرگئے تھے۔
ویسے کارنامہ تو محمد رضوان کا بھی کوئی خاص نہیں لیکن وہ ہار ہار کر بھی کپتان برقرار ہیں۔ دو میچز میں 5 رنز بنانے والے سپرمین طیب طاہر تو ٹیم میں ہیں لیکن ان کی بدترین کارکردگی پر کوئی سوال یا جواب نہیں اور سوال ہو بھی کیوں جب بابر اعظم اور رضوان کی کارکردگی صفر ہے تو ان سے بھی پوچھنے والا کوئی نہیں۔
امام الحق جنہیں بڑے دعووں سے ٹیم میں واپس لایا گیا ہے کہ وہ ڈومیسٹک کے سپر ہیرو ہیں، ان کی ڈومیسٹک کی سنچریوں کا پول اس وقت کھل گیا کہ جب وہ بھارت کے تیسرے درجے کے فاسٹ باؤلر ہرشت رانا کی ایک گیند بھی ٹچ نہیں کرسکے تھے۔ نیوزی لینڈ کی پچز پر اگر کیویز کی پوری ٹیم کھیلی تو امام الحق کی جلد گھر واپسی ہوجائے گی۔
سب کو توقع تھی کہ بابر اعظم، محمد رضوان، نسیم شاہ کو آرام دیا جائے گا لیکن سب ہی اسی طرح ٹیم پر مسلط ہیں۔
ون ڈے سیریز کے لیے منتخب ٹیم من وعن وہی ہے جس نے چیمپیئنز ٹرافی میں قومی پرچم سرنگوں کیا تھا بس ٹیم سے کراچی کی نمائندگی ختم کردی گئی ہے۔ اب اکیلے ابرار احمد 4 کروڑ آبادی والے شہر کی نمائندگی کریں گے اور باقی کراچی رمضان میں ٹیپ بال کھیلے گا۔
جس ڈھٹائی اور بے حسی سے شاداب خان کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، اس نے سب کو حیران کردیا۔ ایک ایسا کھلاڑی جو 8 ماہ سے ٹیم سے باہر ہے جس نے آخری میچ تیسرے درجہ کی ٹیم آئر لینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں کھیلا ہو اور صفر رنز کا کارنامہ انجام دیا ہو، اسے براہ راست کپتان بنانے کا مشن ہو تو انسان صرف اس عقل پر ماتم کرسکتا ہے۔ موصوف نے آخری ڈومیسٹک میچ باحیثیت بلے بازکھیلا تھا اور ناکام رہے۔ اس پاکستانی گارفیلڈ سوبرز کے لیے گزشتہ ایک ہفتے سے ٹی وی پر سابق ٹیسٹ کرکٹرز مہم چلارہے تھے۔ ایک سابق کپتان تو شاداب کے اتنے قصیدے پڑھ رہے تھے کہ اینکر کو روکنا پڑا۔ شاید شاداب کپتان بن جاتے لیکن چیئرمین صاحب نے منع کردیا اور نائب کپتانی پر اکتفا ہوا۔
اب منصوبے کے تحت ٹی ٹوئنٹی کپتان سلمان علی آغا پہلے ہی میچ میں زخمی ہوجائیں گے اور باقی 4 میچ مسٹر دوسرا کے داماد کپتانی کریں گے۔ دھوکا دینے کے لیے دو تین نوجوان کھلاڑی شامل کیے گئے ہیں لیکن انہیں کھیلنے کا موقع نہیں ملے گا۔ عمیر بن یوسف، عبدالصمد اور حسن نواز بس سفر کے مزے لیں گے کیونکہ بار بار ڈراپ ہونے والے محمد حارث اور عثمان خان ٹیم میں جو شامل ہیں جو اولیں انتخاب ہوں گے۔ لہٰذا نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مواقع کم ہیں۔
حارث رؤف جن کی تیسرے اوور میں سانس پھول جاتی ہے، انہیں ون ڈے سے ٹی ٹوئنٹی میں سوئچ کرکے عاقب جاوید نے دوستی نبھادی ہے تاکہ طویل باؤلنگ کا بار ہی نہ ہو حالانکہ حارث رؤف کو اب بالکل فارغ کردینا چاہیے۔
اور پھر 32 سالہ عمر رسیدہ محمد علی کو عاکف جاوید پر ترجیح دینا بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ بہرحال جہانداد خان اور سفیان مقیم کا انتخاب ایک خوش آئند بات ہے۔ جہانداد اگر محنت کریں اور عاقب جاوید کے سائے سے بچیں تو وہ پاکستان کے مارکو جانسن بن سکتے ہیں۔
پریزیڈنٹ ٹرافی کے فائنل میں 3گیندوں پر4 وکٹیں گرنےکا منفرد واقعہ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: چیمپیئنز ٹرافی میں کارکردگی کے ٹی ٹوئنٹی سابق ٹیسٹ ہے جس نے ٹیم میں کے خلاف ٹیم سے گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔