حکومت کا مہنگائی میں کمی کا دعوی؛ رواں ہفتے 13 اشیا کی قیمتیں بڑھ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, March 2025 GMT
حکومت کا مہنگائی میں کمی کا دعوی؛ رواں ہفتے 13 اشیا کی قیمتیں بڑھ گئیں WhatsAppFacebookTwitter 0 7 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز )حکومت کی جانب سے مہنگائی میں کمی کا مسلسل دعوی کیا جا رہا ہے جب کہ ہر ہفتے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ بھی سامنے آ رہا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جاری کردہ مہنگائی کے بارے میں ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.
رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی آئی، اس دوران 13 اشیائے ضروریہ کے دام بڑھ گئے۔اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ کیلے 10 فیصد، چینی 3.15 فیصد، انڈے 2.52 فیصد مہنگے ہوگئے۔ اسی طرح مٹن، بیف، گڑ، گندم کا آٹا، چاول، ایل پی جی بھی مہنگی ہوئی۔ گزشتہ ہفتے کپڑوں اور سگریٹس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیاز 5.59 فیصد، چائے 4.47 فیصد، لہسن 3.89 فیصد، ٹماٹر 3.60 فیصد، دال چنا 3.49 فیصد، ماش 2.82 فیصد سستی ہوئی۔ آلو کی قیمت میں 2.60 فیصد، دال مسور 1.50 فیصد سستی، ڈیزل 2 فیصد اور پیٹرول کے نرخوں میں 0.24 فیصد تک کمی ہوگئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے کیلے 18 روپے فی درجن تک مہنگے ہوئے۔ چینی مزید 5 روپے مہنگی جس کی اوسط قیمت 162 روپے 64 پیسے فی کلو رہی۔ ایک ہفتے کے دوران ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 83 روپے 25 پیسے تک مہنگا ہوا۔ انڈے فی درجن 7 روپے 23 پیسے، مٹن 6 روپے 56 پیسے تک مہنگا، 20 کلو آٹے کا تھیلا 3 روپے 91 پیسے، بیف 50 پیسے تک مہنگا ہوا۔ ایک ہفتے میں پیاز 4 روپے 95 پیسے، ٹماٹر 2 روپے تک سستے ہوئے آلو 2 روپے، دال ماش 4 روپے، باسمتی ٹوٹا چاول 3 روپے تک سستے ہوئے۔ تازہ دودھ، دال مونگ اور دہی بھی سستی ہونے والی اشیا میں شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔