ڈیرہ غازی خان پولیس نے چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
ڈیرہ غازی خان (ڈیلی پاکستان آن لائن )ڈیرہ غازی خان میں پولیس کی چیک پوسٹ لکھانی پر دہشتگردوں نے حملہ کیا جسے جوانوں نے ناکام بنا دیا۔
ڈی پی او کے مطابق دہشتگردوں نے سحری کے وقت پولیس چیک پوسٹ لکھای پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جسے اہلکاروں نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا، پولیس کی جوابی فائرنگ سے دہشتگرد فرار ہو گئے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ غازی خان کی سرحدی چیک پوسٹ پر خوارجی دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر پولیس کو شاباش دی۔
محسن نقوی کا کہنا تھا ڈیرہ غازی خان پولیس نے بہادری کے ساتھ خوارجی دہشتگردوں کا مقابلہ کیا اور حملہ پسپا کیا، ڈی جی خان پولیس نے پہلے بھی دلیری کے ساتھ خوارجی دہشتگردوں کے حملوں کو پسپا کیا ہے۔
’ بھارتی کپتان سے ہی پوچھ لیں کہ ۔۔۔‘ چیمپئنز ٹرافی کے فائنل س قبل برطانوی میڈیا بھی برس پڑا
وزیر داخلہ کا کہنا تھا پنجاب پولیس کے جوانوں نے پروفیشنل انداز میں خوارجی دہشتگردوں کے حملے کا منہ توڑ جواب دیا اور ان مزموم عزائم کو ناکام بنایا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: خوارجی دہشتگردوں ڈیرہ غازی خان چیک پوسٹ
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔