روسی فضائیہ کا یوکرائن کے مشرقی علاقےپرحملہ،11 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
کیف( نیوز ٖڈیسک)یوکرین کے مشرقی علاقے میں روسی فضائی حملے میں 11 افراد ہلاک اور 30 زخمی ہو گئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس کی جانب سے یوکرین میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام کے مطابق حملے کے باعث شہریوں اور دفاع کیلئے ضروری ہتھیاروں کی فیکٹریوں کو بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ کی یوکرینی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ جلد از جلد یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں، تمام فریقوں کو پائیدار امن کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
چیمپئنز ٹرافی فائنل سے قبل بھارت کو جھٹکا، ویرات کوہلی انجری کا شکار
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔