رہنما تحریک انصاف اسد قیصر کا وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 March, 2025 سب نیوز

پشاور(آئی پی ایس )پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا۔ رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور ملک میں بے روزگاری بڑھ چکی ہے، حکومت کو فوری طور پر آزاد اور منصفانہ الیکشن کرانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی ہفتے ہم اپنے تمام الائنس کی میٹنگ بلا رہے ہیں جس میں جامع قومی ایجنڈا بنایا جائے گا، قومی ایجنڈے کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی عوام کے پاس جائیں گے اور عوام کو اکٹھا کریں گے۔سابق سپیکر نے کہا کہ تمام ورکرز کے خلاف ایف آئی آر واپس لی جائے اور گرفتار ورکرز کو آزاد کیا جائے۔علاوہ ازیں تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے کے حوالے سے کوئی اجلاس یا فیصلہ نہیں ہوا، اگلے ہفتے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر جامع پلان لے کر آ رہے ہیں، گرینڈ الائنس کے ساتھ مل کر احتجاج کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دینے کے حوالے سے پارٹی کی سطح پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا پی ٹی آئی کا اپنا فیصلہ ہوگا، اپوزیشن کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: تحریک انصاف

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ