اپوزیشن الائنس کی قیادت کا ہماری طرف سےکوئی مطالبہ نہیں، حافظ حمد اللہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے راہنما جے یو (ف) کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ سڑکوں کی سیاست کا فیصلہ پارٹی ہی کرے گی، پی ٹی آئی دیکھے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی وجہ سے ہمیں نقصان ہو رہا ہے یا ان کو، ہم اسی پوزیشن پر اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ راہنما جے یو آئی (ف) حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن الائنس کی قیادت کا ہماری طرف سے کوئی مطالبہ نہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ کل صدر کے خطاب کےدوران پی ٹی آئی نے ہم سےرابطہ نہیں کیا، جب پی ٹی آئی رابطہ کرے گی پھر کوئی فیصلہ ہوگا، مولانا فضل الرحمان کی آج مصروفیت تھی، ابھی اسد قیصر کا مولانا فضل الرحمان سےرابطہ نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ کل جے یو آئی کی حکمت عملی کیا ہوگی ابھی فیصلہ نہیں ہوا ،دیکھتے ہیں اسد قیصر کب مولانا سے رابطہ کرتے ہیں، 13 سالہ تلخی کو نظر انداز کرکے ہم پی ٹی آئی سے رابطے میں تھے،پ ی ٹی آئی سے ایسے بیانات آرہے ہیں جس کا ہمیں افسوس ہے، پی ٹی آئی الائنس چاہتی ہے لیکن منفی بیانات سے ہمیں کنفوژ بھی کر رہی ہے۔
راہنما جے یو (ف) کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ سڑکوں کی سیاست کا فیصلہ پارٹی ہی کرے گی، پی ٹی آئی دیکھے کہ علی امین گنڈا پور کی وجہ سے ہمیں نقصان ہو رہا ہے یا ان کو، ہم اسی پوزیشن پر اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے، حکومتی بنچوں پر بیٹھنا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا، آخر میں ایک سوال کے جواب میں حافظ حمد اللہ کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن الائنس کی قیادت کا ہماری طرف سے کوئی مطالبہ نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حافظ حمد اللہ کہنا تھا کہ پی ٹی آئی
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔