Juraat:
2026-06-03@08:31:22 GMT

فرانس کا فلسطین پرنیاموقف

اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT

فرانس کا فلسطین پرنیاموقف

حمیداللہ بھٹی

فرانس کا فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرناایک اہم عالمی پیش رفت ہے جس کے غیر معمولی نتائج سامنے آ سکتے ہیں کیونکہ فرانس کا اہم عالمی کردار ہے ۔یہ جوہری ملک یورپی یونین کے فیصلوں پر نہ صرف اثر انداز ہونے کی اہلیت وصلاحیت رکھتا ہے بلکہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں شامل ہے جن کے پاس ویٹوپاور ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی دفاعی تنظیم نیٹوکا بھی فعال رُکن ہے۔ اسی لیے فرانس کی طرف سے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کاعلان بہت اہم ہے۔ اگرچہ کچھ حلقے اِس اعلان کو ایک بڑی پیش رفت قرار دینے پر مُصر ہیں تو غیر جانبدارحلقے اِسے فلسطینیوں سے حُب کی بجائے اندرونی دبائو کاشاخسانہ قراردیتے ہیں اور دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ فرانس جو اسلام مخالف قوانین بنانے میں پیش پیش ہے اور اِس حوالے سے یورپی یونین کی مجموعی طورپر آزاد خیال پالیسی کے منافی سخت گیر پالیسی پر ِ عمل پیراہے، سے فلسطین بارے کسی اچھے رویے کی توقع رکھنا درست نہیں۔علاوہ ازیں فرانس اور امریکہ کے باہمی تعلقات آجکل غیر متوازن ہیں۔ اسی بناپر فرانسیسی حکومت کی طرف سے ایسا کوئی فیصلہ متوقع تھا جو امریکہ کے لیے پریشانی کا باعث ہو مگراِس فیصلے میں جو بھی عوامل کارفرما ہوں فرانسیسی حکومت کا یہ فیصلہ بدلتے عوامی وعالمی رجحانات کا عکاس ہے۔
ارضِ فلسطین عشروں سے غاصب اسرائیلی ظلم و جبر کا شکار ہے یہاں دن رات انسانی آنسوئوں کی بارش ہوتی ہے۔ اسرائیلی حملوں سے یہاں ہر روز قیامت کی ایک نئی داستان رقم ہوتی ہے لیکن عالمی برادری نے آنکھیں بندکررکھی ہیں وجہ یہ کہ اسرائیل کا پشت پناہ امریکہ ہے جس کا ڈر حقائق کا اعتراف کرنے سے روکتا ہے کئی ماہ سے فلسطینی علاقے غزہ کو یکطرفہ بمباری کا سامنا ہے۔ یہاں کے لوگوں کے لیے خوراک ،پانی اور ادویات کا حصول بھی ناکہ بندی سے ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ غزہ کے مکینوں کو بمباری کے ساتھ بھوک سے بھی ماراجارہاہے اِتنے ظلم پربھی عالمی ضمیر گہری نیند سورہا ہے۔ امریکی خوف دنیا کوظلم پر لب کشائی سے روکتا ہے مگر اب کچھ ایسے آثار ہیں کہ عالمی برادری آنکھیں کھول سکتی ہے ۔اِس کی وجہ چاہے اندرونی عوامی دبائو ہی سہی پھر بھی یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔
فلسطین کی بدقسمتی یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہے جو تیل کی دولت سے مالا مال ہے، تیل ہی عالمی طاقتوں کی مشرقِ وسطیٰ میں دلچسپی کی وجہ ہے مزید بدقسمتی یہ کہ فلسطینی ریاست اسرائیل کی ہمسایہ ہے ،جسے توسیع پسندی کا ایک ایسا عارضہ لاحق ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جارہا ہے مگر اِس عارضے کا علاج کرنے میں کوئی عالمی طاقت یا اِدارہ دلچسپی نہیں رکھتا ۔اسی وجہ سے عشروں سے ناقابلِ علاج ہے اگر اقوامِ متحدہ چاہتی تو سرائیل کو نسل کشی اور جارحیت سے روک سکتی تھی مگرہربار امریکی خواہش آڑے آجاتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نہ صرف فلسطین پر قابض ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کوبے خوف وبے لگام ہوکرمحاذِجنگ بنا رکھا ہے ۔دراصل دنیا کی سیاست مفادات کاکھیل ہے اور امریکی مفاد اسرائیل کی سرپرستی میں ہے ،اِس طرح وہ دو فائدے حاصل کرتا ہے۔ ایک طرف دنیا کے امیر ترین صیہونیوں کی سرمایہ کاری حاصل ہے تودوسرا مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی دولت سے مالا مال ممالک کو بھی اسرائیلی خوف کی وجہ سے زبردستی اپنا اتحادی بنارکھا ہے۔ اسی لیے اسرائیل کوجارحانہ اور وحشیانہ اقدامات سے روکنے کی بجائے حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسی حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے کہ اب اسرائیل صرف فلسطین تک محدودرہنے کی بجائے دیگر ہمسایہ ممالک لبنان،شام اور عراق پربھی حملے کرنے لگا ہے۔ ہمسایہ ملک نہ ہونے کے باوجود وہ ایران جیسے ملک پر جوہری طاقت بننے کا الزام لگا کر حملے کر چکا ایسی کوششیں دنیا کو دانستہ طور پر جنگ میں دھکیلنا ہے جس کا حل یہ ہے کہ عالمی اِدارے اور طاقتیں ناانصافی کی بجائے اسرائیلی جارحانہ و توسیع پسندانہ اقدامات پرخاموش رہنے کی بجائے انصاف کریں ۔
اسپین یورپی یونین کاوہ اولیںملک ہے جس نے سب سے پہلے مفادات سے بالاتر ہوکر غزہ المیے پرنہ صرف آواز بلند کی بلکہ سرائیل کے لیے ہتھیار لے جانے والے بحری جہازوں کے لیے اپنی بندرگاہیں تک بندکردیں ۔یہ ایک ایسا منصفانہ فیصلہ ہے جس سے ثابت ہوا کہ اسپین کے قول و فعل میں تضادنہیں جہاں بھی انسانی حقوق کی پامالی ہوگی سپین مفادات سے بالاتر ہو کرفیصلے کرے گا۔ فلسطین کے لیے یورپی یونین سے یہ پہلی زوردار آواز بلند ہوئی جو ہر حوالے سے قابلِ قدر ہے۔ اب تاخیر سے ہی سہی یا فرانس نے امریکہ کوزچ کرنے کے لیے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے یا بڑھتے اندرونی دبائو سے مجبور ہوکر اِس طرف آیا ہے جو بھی ہے اِس کے ممکنہ گہرے ا ثرات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا بلکہ توقع ہے کہ شاید جلد ہی برطانیہ بھی ایسا کوئی فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائے جو فی الحال ایسے کسی فیصلے سے انکاری ہے۔ فرانس کے فیصلے سے برطانوی وزیرِ اعظم کئیرسٹارمر پر عوامی دبائو میں مزید اضافہ ہو گا جوفلسطین کوبطور ریاست تسلیم کرنے کے اعلان کاباعث بن سکتا ہے کیونکہ دوران ِانتخاب ووٹ بحرحل عوام نے دینے ہوتے ہیں ۔امریکہ نے نہیں اگر فرانسیسی صدرایمانوئل میکغوں کو یہ بات سمجھ آگئی ہے تو برطانوی وزیرِ اعظم بھی جلد سمجھ جائیںگے وگرنہ اپنی مقبولیت اپنے ہاتھوں کم کریں گے۔
دنیا کے 146کے لگ بھگ ممالک فلسطین کوبطور ریاست تسلیم کر چکے ہیں جن میں وہ تمام ممالک بھی شامل ہیں جوعرب لیگ کا حصہ ہیں ۔اب فرانس جیسے اہم یورپی ملک کی طرف سے فلسطین کو تسلیم کرنے سے عرب ممالک کے نہ صرف موقف کو تقویت ملے گی بلکہ دیگر ممالک کے لیے ایسا فیصلہ کرنابھی آسان ہو جائے گا ۔حالانکہ ایسے فیصلے اخلاقی حوالے سے ہی اہم ہیں کیونکہ ایسے فیصلوں کو توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والی اقوام خاطر میں نہیں لاتیں جب تک عملی اقدامات نہ اُٹھائے جائیں ۔ اسرائیل جو عالمی قوانین کی پاسداری نہیں کرتااور نہ ہی اقوامِ متحدہ سمیت دیگر عالمی اِداروں کی پاس کردہ قرار دادوں کو اہمیت دیتا ہے مستقبل میں بھی ایسی کوئی خوش فہمی نہیں کہ ظلم و زیادتی کا سلسلہ روک کر فلسطینیوں کو انسانی حقوق دینے پر رضا مند ہو جائے گا، جب حال ہی میں اُس کی پارلیمنٹ مقبوضہ مغربی کنارے کو ضم کرنے کی قرار داد منظور کر چکی ہے۔ اِس کے باوجوداخلاقی فیصلوں کی اہمیت ہے ضرورت اِس امر کی ہے کہ اقوامِ متحدہ اورطاقتور یورپی اقوام دنیا میں امن قائم کرنے میں سنجیدہ ہوں جس کے لیے ضروری ہے کہ محکوم اقوام کو غصب شدہ حقوق دلائے جائیں اور جارحانہ و توسیع پسندانہ عزائم رکھنے والے ممالک کی حوصلہ شکنی کی جائے فلسطین کے بارے میںفرانسیسی فیصلہ قابلِ ستائش ہے مگر جب تک اسرائیل کوظلم و جبر اور نسل کشی سے روکنے کے لیے عملی طورپر سخت فیصلے نہیں کیے جاتے فلسطین کی مظلوم اور معصوم عوام کوانصاف نہیں مل سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ریاست تسلیم کر یورپی یونین تسلیم کرنے فلسطین کو سے فلسطین کی بجائے کے لیے

پڑھیں:

میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب

دنیا کے سب سے مقبول کھیل فٹبال کا سب سے بڑا ایونٹ، فیفا ورلڈ کپ 2026، 12 جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہو رہا ہے۔ اس بار ٹورنامنٹ کئی حوالوں سے تاریخ ساز ثابت ہونے جا رہا ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ 48 قومی ٹیمیں عالمی اعزاز کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی جبکہ مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی اس عظیم مقابلے کا حصہ ہوں گے۔

1248 players. 48 nations. Locked in. ????

The Official Squad Lists for #FIFAWorldCup 2026 are here ⤵️

— FIFA World Cup (@FIFAWorldCup) June 2, 2026

فیفا کی جانب سے تمام 48 ٹیموں کے حتمی اسکواڈز کی منظوری کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کھلاڑیوں، ٹیموں اور میچوں کی تعداد کے اعتبار سے تاریخ کا سب سے بڑا فٹبال ٹورنامنٹ ہوگا۔ ایونٹ میں شریک ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں چار چار ٹیمیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو سابقہ ورلڈ کپ ایڈیشنز کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: امریکا نے ایرانی فٹبال ٹیم کو قیام کی اجازت نہیں دی، ٹیم میکسیکو میں رہے گی

میڈیا رپورٹس کے مطابق 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں، جبکہ 891 کھلاڑی پہلی مرتبہ اس عالمی اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ ماہرین کے مطابق نئے اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا یہ امتزاج ٹورنامنٹ کو مزید دلچسپ اور غیر متوقع بنا سکتا ہے۔

World Cup is exactly TWO weeks away. ???? #FIFA pic.twitter.com/NFDxw8uKlO

— World Cup 2026 (@WorldCupMedia) May 28, 2026

بین الاقوامی میڈیا نے ورلڈ کپ 2026 کو ’فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ جامع عالمی مقابلہ‘ قرار دیا ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ٹیموں کی تعداد میں اضافے سے نہ صرف مقابلہ زیادہ سخت ہوگا بلکہ دنیا کے نئے خطوں اور ابھرتی ہوئی فٹبال قوموں کو بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا۔

اس ورلڈ کپ کی ایک اور نمایاں خصوصیت عالمی فٹبال کے دو عظیم ترین ستاروں، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو، کی ممکنہ تاریخی شرکت ہے۔ دونوں کھلاڑی اپنے چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔ میکسیکو کے تجربہ کار گول کیپر گیلرمو اوچوا بھی چھٹی مرتبہ ورلڈ کپ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں، جو عالمی فٹبال میں ایک منفرد ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

ورلڈ کپ 2026 کئی نئی قومی ٹیموں کے لیے بھی یادگار ثابت ہوگا۔ کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے فائنل مرحلے میں پہنچے ہیں۔ ان ٹیموں کی شمولیت کو فٹبال کی عالمی توسیع اور کھیل کے بڑھتے ہوئے دائرہ اثر کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

عمر کے اعتبار سے بھی اس بار ٹورنامنٹ منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ایونٹ میں شامل سب سے کم عمر کھلاڑی کی عمر صرف 17 برس ہے جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں 7 ایسے کھلاڑی شریک ہیں جن کی عمر 40 برس سے زیادہ ہے، جبکہ 22 کھلاڑی 20 سال سے کم عمر ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار نوجوان ٹیلنٹ اور تجربے کے دلچسپ امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔

The 2026 FIFA World Cup ???? ⚽ is making its triumphant return to North America, sparking huge excitement across the continent for the world's biggest football tournament, which kicks off on June 11 in Mexico.

Here's your quick guide ????https://t.co/li1RCedN1h

— TRT World (@trtworld) June 1, 2026

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی نہ صرف شمالی امریکا میں فٹبال کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی کھیل کی تجارتی اور ثقافتی اہمیت میں اضافہ کرے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ناظرین، آمدنی اور ڈیجیٹل رسائی کے کئی نئے ریکارڈ قائم کرے گا۔

فٹبال شائقین کی نظریں اب 12 جون پر مرکوز ہیں، جب دنیا بھر کی 48 بہترین ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے اپنی مہم کا آغاز کریں گی اور تاریخ کے سب سے بڑے فیفا ورلڈ کپ کا باقاعدہ افتتاح ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رونالڈو فٹبال ورلڈ کپ 2026 فیفا ورلڈ کپ میسی

متعلقہ مضامین

  • امریکا ایران مذاکرات میں تعطل کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار