بھارتی کرکٹ کے لیجنڈری بلے باز سنیل گواسکر نے چیمپئنز ٹرافی 2025 میں بھارت کی تاریخی فتح پر خوشی میں رقص کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔  

اتوار کی رات دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے فائنل میں بھارت نے نیوزی لینڈ کو شکست دے کر تیسری بار چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کی۔

جیسے ہی بھارتی کپتان روہت شرما نے ٹرافی اٹھائی 75 سالہ سنیل گواسکر خوشی سے جھوم اٹھے اور ان کا معصومانہ رقص کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہوگیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان ٹیم سے متعلق منفی بیان، انضمام کا گواسکر کو زبان پر قابو رکھنے کا مشورہ

چیمپئنز ٹرافی کی جیت کے ساتھ ہی سنیل گواسکر کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ کمنٹری پینل کا حصہ تھے اور جیسے ہی بھارت نے جیت کا جشن منایا وہ بھی خود کو روک نہ سکے اور ناچنے لگے۔

مزید پڑھیں: پاکستان مخالف بیان پر گلیسپی نے گواسکر کو آڑے ہاتھوں لے لیا

ان کی یہ معصومانہ خوشی کا منظر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گیا اور مداحوں نے ان کے جذباتی ردعمل کو بے حد پسند کیا۔  

بھارت کی اس جیت نے نہ صرف ٹیم کے حوصلے بلند کیے بلکہ سابق کھلاڑیوں اور مداحوں کو بھی خوشی سے جھومنے پر مجبور کر دیا۔

        View this post on Instagram                      

A post shared by Star Sports India (@starsportsindia)

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چیمپئنز ٹرافی سنیل گواسکر

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل