ویب ڈیسک — 

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کو کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ بین الاقوامی ترقیات کے ادارے ( یو ایس ایڈ ) کے 83 فیصد پروگراموں کو منسوخ کر رہی ہے ۔

روبیو نے کہا کہ 60 سال پرانے ادارے کے پروگراموں کے خاتمے سے متعلق چھ ماہ پر محیط جائزے کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ امداد اور ترقیات کے باقی رہ جانے والے 18 فیصد پروگراموں کو امریکی محکمہ خارجہ کو منتقل کر دیں گے ۔

روبیو نے یہ اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کیا ۔ اس اقدام سے امریکہ کی غیر ملکی امداد اور ترقیات سے متعلق پالیسی سے ایک تاریخی علیحدگی کی نشاندہی ہوتی ہے جس پرمحکمہ خارجہ میں ٹرمپ کے مقرر کردہ سیاسی عملے اور ایلون مسک کے ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشینسی کی ٹیموں نے کام کیا۔

روبیو نے اپنی پوسٹ میں ڈوژ کے نام سےموسوم، گورنمنٹ ایفی شینسی کے محکمے اور ’’محنتی عملے کا شکریہ ادا کیا جس نے غیر ملکی امداد کی ایک عرصے سے التوا میں پڑی اس اصلاح کے حصول کے لیے انتہائی طویل گھنٹوں تک کام کیا۔

صدر ٹرمپ نے بیس جنوری کو ایک ایگزیکٹیو آرڈر جاری کیاتھا جس میں غیر ملکی معاونت کی فنڈنگ کو منجمد کرنے اور بیرونی ممالک میں امریکی امداد اور ترقیات کے کاموں پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالرز کا جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی ۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بیشتر غیرملکی معاونت ایک لبرل ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر ضائع ہو رہی ہے۔




پیر کو روبیو کی ایکس پر سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا گیا کہ اب وہ جائزہ ’’ باضابطہ طور پر ختم ہو رہا ہے ‘جس کے تحت یو ایس ایڈ کے لگ بھگ 6200 پروگراموں میں سے 5200 پروگرام ختم کر دئے گئے ہیں۔

روبیو نےپوسٹ کیا ہے کہ ان پروگراموں پر، اربوں ڈالر ایسے طریقوں سےخرچ کیے گئے جن سے امریکہ کے اہم قومی مفادات پورے نہیں ہوئے (اور کچھ واقعات میں تو نقصان ہوا)۔

انہوں نے کہا ، ’’ کانگریس کی مشاورت کے ساتھ ، ہمارا ارادہ ہے کہ باقی رہ جانے والے 18 فیصد پروگراموں کو جاری رکھا جائے جنہیں امریکی محکمہ خارجہ زیادہ موثر طریقے سے چلائے گا ‘‘۔

ڈیمو کریٹک قانون سازوں اور دیگرنے کانگریس کی فنڈنگ سے چلنے والے پروگراموں کی بندش کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کوئی اقدام کانگریس کی منظوری کا متقاضی ہے ۔

امریکی محکمہ خارجہ نے ، جو یو ایس ایڈ کی تیز رفتاری سے بندش پر متعدد مقدمات کا سامنا کر رہا ہے ، اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ ، وہ یو ایس ایڈ کے 90 فیصد پروگرام بند کررہا ہے ۔ روبیو نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی کہ موجودہ تعداد بتائی گئی تعداد سے کم کیوں ہے ، اور اس بارے میں بھی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ کن پروگراموں کو باقی رکھا گیا ہے یا امریکی محکمہ خارجہ انہیں کیسے چلائے گا۔




صدر ٹرمپ کے حکم کے بعد یو ایس ایڈ کو ختم کرنے کے اقدام نے کئی دہائیو ں کی اس امریکی پالیسی کو منسوخ کر دیا ہے ، کہ بیرونی ملکوں میں انسانی ہمدردی اور ترقیات سے متعلق امداد نے خطوں اور معیشتوں کو مستحکم کر کے ، اتحادوں کو مضبوط کر کے اور خیر سگالی قائم کر کے امریکہ کی قومی سلامتی کو تقویت دی ہے ۔

ٹرمپ کے حکمنامے کے اجرا کے کئی ہفتے بعد ، ان کے مقرر کردہ ایک عہدے داراور ٹرانزیشن ٹیم کے رکن پیٹ مروکو اور مسک نے دنیا بھر میں یو ایس ایڈ کے عملے کو رخصتی اور بر طرفی کے ذریعے ملازمتوں سے نکال دیا ، راتوں رات یو ایس ایڈ کیلئے ادائیگیوں کو بند کردیا اور امداد اور ترقیات کے ہزاروں کانٹریکٹس ختم کر دیے ۔

اس کے بعدکانٹریکٹرز اور اسٹاف نے کام بند کر دیا ۔ امدادی گروپوں اور یو ایس ایڈ کے دوسرے پارٹنرز نے امریکہ اور بیرونی ممالک میں اپنے ہزاروں کارکنوں کو برخواست کر دیا ۔

یو ایس ایڈ کی شراکت دار کچھ غیر منافع بخش تنظیموں اور کاروباری اداروں کی طرف سے دائرکردہ مقدمات میں کہا گیا ہے کہ پروگراموں کے خاتمے سے متعلق فارم لیٹر میں ان پروگراموں کو بھی ختم کر دیا گیا ہے جن کے بارے میں روبیو نے کہاتھا کہ وہ انہیں بچانا چاہتے ہیں، جس سے کانٹریکٹ کی شرائط کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور امدادی گروپوں اور کاروباری اداروں کی اربوں ڈالر کی ادائگیا ں منقطع کر دی گئی ہیں۔

اس بندش کے نتیجے میں یو ایس ایڈ کے عملے کے بہت سے ارکان، کانٹریکٹرز اور ان کے خاندان ابھی تک بیرونی ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں ، جن میں سے بہت سے اپنے واجبات اور وطن واپسی کے اخراجات کا انتظا ر کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: امریکی محکمہ خارجہ فیصد پروگراموں کو امداد اور ترقیات یو ایس ایڈ کے ترقیات کے روبیو نے کر دیا نے کہا

پڑھیں:

میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟

نیویارک شہر کے کم عمر باسکٹ بال شائقین کے لیے ’بیڈ ٹائم‘ سے متعلق ایک دلچسپ خبر سامنے آئی ہے۔

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ایک خصوصی انتظامی حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ این بی اے فائنلز کے دوران بچوں کے سونے کے معمول کے اوقات عارضی طور پر منسوخ تصور کیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی پسندیدہ ٹیم نیویارک نکس کے تمام میچز بلا رکاوٹ دیکھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: نماز عیدالاضحیٰ: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی منفرد انداز میں شرکت

یکم جون کو جاری کیے گئے اس علامتی حکم نامے میں کہا گیا کہ سونے کے اوقات ’نیویارک کے سب سے پیارے بچوں‘ کو نکس کی حوصلہ افزائی کرنے اور میچ کا ایک ایک لمحہ دیکھنے سے نہیں روک سکتے۔

اس موقع پر میئر ممدانی کے ساتھ نکس کے رنگوں میں ملبوس بچوں کا ایک گروپ بھی موجود تھا، جنہوں نے اپنے ہاتھوں کے نشانات لگا کر علامتی طور پر اس حکم نامے پر دستخط کیے۔

Today, I signed an Executive Order temporarily repealing bedtimes in the City of New York so that kids of all ages can watch our team in the NBA Finals.

As Mayor, you’re forced to make many difficult decisions. This was not one of them.

Go Knicks. pic.twitter.com/DqjNtVh17h

— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) June 1, 2026

میئر ممدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ میئر کی حیثیت سے آپ کو کئی مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں، لیکن یہ ان میں سے ایک نہیں تھا۔

انہوں نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر ’گو نکس‘ کا نعرہ بھی لگایا۔

این بی اے فائنلز میں نیویارک نکس اور سان انتونیو اسپرس کے درمیان تمام میچز رات ساڑھے 8 بجے (مشرقی امریکی وقت) شروع ہوں گے۔

سیریز کے پہلے، تیسرے اور چوتھے میچ تعلیمی دنوں سے قبل رات کو کھیلے جائیں گے، جبکہ اگر ضرورت پڑی تو چھٹا میچ بھی اسکول کی رات میں ہوگا۔

ایسے میں بچوں کے لیے دیر تک جاگ کر میچ دیکھنا ایک اہم مسئلہ بن سکتا تھا۔

مزید پڑھیں: ظہران ممدانی کی نیو یارک میں اسٹیٹ ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز

نیویارک نکس کی این بی اے فائنلز میں رسائی شہر بھر میں غیرمعمولی جوش و خروش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

یہ 1999 کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ نکس فائنلز میں پہنچی ہے، آخری بار فائنلز میں انہیں ٹم ڈنکن اور ڈیوڈ رابنسن کی قیادت میں سان انتونیو اسپرس نے شکست دی تھی۔

نکس کی 27 سالہ طویل انتظار کے بعد فائنلز میں واپسی نے باسکٹ بال کے دیوانے نیویارک شہر کو یکجا کر دیا ہے۔

اسپورٹس تجزیہ کاروں کے مطابق نیویارک میں نکس کا فائنلز میں پہنچنا سپر باؤل سے بھی بڑا واقعہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

باسکٹ بال سان انتونیو اسپرس ظہران ممدانی میئر نیویارک نیویارک نکس

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟