بولان(نیوز ڈیسک) سکیورٹی فورسزکا آپریشن جاری، جعفر ایکسپریس سے 104 یرغمال مسافر بازیاب، 16 دہشتگرد ہلاک،کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں نے حملہ کر کے مسافروں کو یرغمال بنالیا جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن کر کے 104 یرغمال مسافروں کو بازیاب کر والیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق بازیاب کروائے جانے والوں میں 58 مرد، 31 عورتیں اور 15 بچے شامل ہیں،17 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ باقی مسافروں کی باحفاظت بازیابی کے لیے سکیورٹی فورسز کوشاں ہیں۔

سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں مال ٹرین مسافروں کو لے کر مچھ ریلوے اسٹیشن پہنچ گئی ہے۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ جعفرایکسپریس کے بازیاب 57 مسافروں کو کوئٹہ پہنچا دیا گیا،23 مسافرمچھ رک گئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کےدرمیان شدید فائرنگ جاری ہے، سکیورٹی فورسز نے 16 دہشت گرد ہلاک کردیے ہیں اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ دہشت گرد اپنے بیرون ملک ہینڈلرز سے بذریعہ سیٹلائٹ فون رابطے میں ہیں۔ سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے باعث دہشت گرد چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری علاقے میں آپریشن میں حصہ لے رہی ہے، دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے، آخری دہشت گردکے خاتمے تک آپریشن جاری رہےگا۔

وزیرداخلہ کا100 سے زائد مسافروں کوبازیاب کرانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
وزیرداخلہ محسن نقوی نے 100 سے زائد مسافروں کو بازیاب کرانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے جرات کے ساتھ دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنایا۔محسن نقوی نے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی سے بھی رابطہ کیا اور بلوچستان حکومت کو ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں اور سہولت کاروں کے خاتمے کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔

صدر اور وزیراعظم کی جعفر ایکسپریس پر دہشتگردوں کے حملےکی شدید مذمت
صدر مملکت آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی پر فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔صدر آصف زرداری نے جعفر ایکسپریس پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے جعفر ایکسپریس کے مسافروں کو ریسکیو کرنے پر فورسز کی بہادری کی تعریف کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جعفر ایکسپریس پر بزدلانہ حملے کی مذمت کی اور کہا کہ سکیورٹی فورسز بہادری و پیشہ ورانہ مہارت سے دہشت گردوں کا سدباب کررہی ہیں، دشوار راستوں کے باوجود آپریشن میں شامل سکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکاروں کے حوصلے بلند ہیں، سکیورٹی فورسز بروقت کارروائی اور بہادری سے بزدل دہشت گردوں کو پسپا کر رہی ہیں۔

9 بوگیوں پر مشتمل ٹرین میں 400 سے زائد مسافر سوار ریلوے حکام نے بتایا کہ جعفر ایکرپیس 9 بوگیوں پر مشتمل تھی اور ٹرین میں 400 سے زائد مسافر سوار تھے، ٹرین منگل کی صبح 9 بجے کوئٹہ سے روانہ ہوئی تھی۔ذرائع کے مطابق مسافر ٹرین کوئٹہ سے پشاور جارہی تھی کہ اس دوران پہلے ٹریک پر دھماکا کیا گیا اور پھر ٹرین پر فائرنگ ہوئی جس کے بعد ٹرین میں موجود سکیورٹی اہلکاروں اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

لیویز حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس فائرنگ کا واقعہ بلوچستان کے ضلع کچھی (بولان) کے علاقے پیروکنری میں پیش آیا جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور زخمی ہوگیا جبکہ ٹرین اس وقت سرنگ میں کھڑی ہے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ دہشت گردوں نے جعفرایکسپریس کو سرنگ میں روک کرمسافروں کویرغمال بنایا ، انتہائی دشوار گزار اور سڑک سے دور ہونے کے باوجود سکیورٹی فورسزموقع پر پہنچیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یرغمال بنائے گئے افراد میں اکثریت عورتوں اوربچوں کی ہے۔

پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں فی طالبعلم سالانہ 15 لاکھ سے 35 لاکھ سالانہ فیس کا انکشاف

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: جعفر ایکسپریس پر دہشت سکیورٹی فورسز کی ذرائع کے مطابق سکیورٹی ذرائع دہشت گردوں کے سے زائد مسافر مسافروں کو کا کہنا ہے بازیاب کر فورسز کو

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار