عیدالفطر کے پیش نظر اہم مارکیٹوں، شاپنگ سینٹرز میں ٹریفک پولیس تعینات
اشاعت کی تاریخ: 14th, March 2025 GMT
کراچی:
ٹریفک پولیس کی جانب سے عیدالفطر کے موقع پر شہر کی اہم مارکیٹوں میں 15 ویں روزے سے رکشا، ٹیکسی، آن لائن ٹیکسی اور کمرشل گاڑیوں کے داخلے پابندی عائد کر دی جائے گی جبکہ خریداروں اور عوام کے رش کی وجہ سے شہریوں کی سہولت کے پیش نظر ٹریفک پولیس کو اہم شاپنگ سینٹرز ، بازاروں اور مارکیٹوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
ترجمان ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق طارق روڈ اتحاد سگنل تک رکشا، ٹیکسی، آن لائن ٹیکسی اور کمرشل گاڑیوں کا داخلہ ممنوع کر دیا گیا ہے جبکہ رکشا ٹیکسی، آن لائن ٹیکسی اور کمرشل گاڑیوں کے ڈرائیور حضرات اللہ والی سے نورانی اور میڈی کیئر شہید ملت کا راستہ اختیار کریں۔
ٹریفک پولیس نے کہا کہ ملینئیم ڈرگ روڈ سے آنے والی ٹریفک ملینئیم فلائی اوور سے نیپا جاسکے گی تاہم فلائی اوور کے نیچے رکشا، ٹیکسی اور آن لائن ٹیکسی کا داخلہ ممنوع ہوگا۔
ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق حیدری مارکیٹ میں خریداروں کے رش کی صورت میں نارتھ کراچی سے آنے والی کمرشل ٹریفک نارتھ ناظم آباد فائیو اسٹار چورنگی سے دائیں جانب شپ اونر چورنگی شارع نور جہاں اور بائیں جانب لنڈی کوتل چورنگی کا راستہ اختیار کرے گی۔
اسی طرح بورڈ آفس سے آنے والی ٹریفک کو کے ڈی اے چورنگی سے دائیں جانب ضیاالدین چورنگی اور بائیں جانب پہاڑ گنج شارع نور جہاں سے نارتھ کراچی کا راستہ استعمال کرنا ہوگا اور رکشا، ٹیکسی اور آن لائن ٹیکسی کا داخلہ ممنوع ہوگا۔
ٹریفک پولیس نے بتایا کہ صدر فوارہ چوک سے جی پی او اور سنگر چوک سے زیب النسا تک رکشا، ٹیکسی اور آن لائن ٹیکسی کا داخلہ ممنوع ہوگا اور یہ تمام گاڑیاں جس میں کمرشل گاڑیاں بھی شامل ہیں، ان کے ڈرائیور حضرات فوارہ چوک سے ایم آر کیانی چوک سے دائیں جانب سرور شہید روڈ پر کوسٹ گارڈ سے مسجد خضرا اور وہاں سے ریگل یا تبت سینٹر کا راستہ اختیار کر سکیں گے۔
اسی طرح ایم اے جناح روڈ سے سنگر چوک اور بائیں جانب پریڈی اسٹریٹ اور صدر دواخانہ کا روٹ استعمال کریں۔
ترجمان کے مطابق جامع کلاتھ میں شہریوں کو رش سے بچانے کے لیے تبت چوک سے عید گاہ چوک (جامع کلاتھ) تک رکشا، ٹیکسی، آن لائن ٹیکسی اور کمرشل گاڑیوں کا داخلہ ممنوع ہوگا اور یہ تمام گاڑیوں کے ڈرائیور حضرات ٹائر والی گلی اردو بازار سے کورٹ روڈ چوک اور وہاں سے دائیں جانب فریسکو چوک کا راستہ اختیار کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ کلفٹن 3 تلوار میں بھی خریداروں کے رش کی وجہ سے کلفٹن برج سے 3 تلوار اور بائیں جانب ریس کورس چوہدری خلیق الزمان روڈ کا استعمال کریں، اسی طرح انڈر پاس سے آنے والا ٹریفک باتھ آئی لینڈ سے کلفٹن برج کا استعمال کرے گا ،اس دوران رکشا، ٹیکسی، آن لائن ٹیکسی اور کمرشل گاڑیوں کا داخلہ ممنوع ہوگا۔
ترجمان ٹریفک پولیس نے کہا کہ کسی بھی قسم کی ٹریفک روانی بہتر بنانے سے متعلق اپنی تجاویز یا شکایت کے لیے ٹریفک پولیس ہیلپ لائن 1915 پر رابطہ کریں جہاں ٹریفک پولیس اہلکار 24 گھنٹے عوام کی خدمت کے لیے موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ن لائن ٹیکسی اور کمرشل گاڑیوں کا داخلہ ممنوع ہوگا کا راستہ اختیار کر اور بائیں جانب ٹریفک پولیس چوک سے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔