خیبرپختونخوا کےعوام فتنتہ الخوارج کیخلاف متحد، سیکورٹی اہلکار کے اغوا کی کوشش ناکام
اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے عوام فتنتہ الخوارج کیخلاف کھڑے ہو گئے۔ سیکورٹی اہلکار کے اغوا کی کوشش ناکام بنا دی۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں چھٹی پر آئے سیکیورٹی اہلکار کےگھر کا محاصرہ کرنے والے مسلح افراد کے خلاف مقامی افراد متحد ہوگئے۔ مقامی افراد نے فتنہ الخوارج کے ہاتھوں سیکیورٹی اہلکارکو اغوا کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق تیراہ کے رہائشیوں نے واضح کیا کہ ہمارا دہشت گردوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ ہمیں امن سے جینے دیں۔ ہم فوجی کو حوالے نہیں کریں گے۔ اس سے قبل کرک میں بھی عوام نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ملکر خوارج کے حملے کو پسپا کیا تھا۔ اسی طرح بنوں میں 14 اور 15 مارچ کی درمیانی رات خوجڑی پولیس چوکی پر حملے کے دوران مقامی افراد نے پولیس کے ساتھ ملکر خوارج کو مار بھگایا۔ اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ فتنے کا دور ہے اور ہم اس فتنے کو ختم کر کے دم لیں گے۔ ہم پولیس کے ہمراہ کھڑے ہیں۔
مزید پڑھیں: فتنہ الخوارج سمیت دہشت گرد گروہ پاکستان کیخلاف افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں، آرمی چیف
سیکورٹی ذرائع کے مطابق لکی مروت میں نماز عشاء کے وقت عباسہ خٹک میں قائم مسجد کے باہر سیکیورٹی پر مامور مقامی رہائشی کا خوارج سے سامنا ہوا۔ مسجد میں موجود تمام نمازیوں نے ملکر خوارج کو مار بھگایا۔ مقامی افراد اور خوارج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ ڈی پی او لکی مروت کی طرف سے چوکی عباسہ کو آرڈر دیا گیا کہ مقامی لوگوں کو ہر طرح کی سپورٹ مہیا کی جائے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے ہی فتنتہ الخوارج کیخلاف کارروائیوں میں تیزی لا چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخواہ کی غیور عوام کی جانب سے خوارج کیخلاف اتحاد فتنتہ الخوارج کی بڑی ناکامی ہے۔ دہشتگردوں کیخلاف مزاحمت کرنے والے یہ پاکستانی ہی اصل ہیروز ہیں جو فتنہ الخوارج کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ غیور عوام کی عسکریت پسندی کے خلاف عملی مزاحمت واضح پیغام ہے کہ وہ کسی صورت دہشت گردی کو برداشت نہیں کریں گے۔ عوام کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے حق میں اوردہشتگردوں کیخلاف جنگ کرنا پر امن مستقبل کی روشن نوید ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خوارج کیخلاف مقامی افراد کرنے والے خوارج کے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔