بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے دفاتربند کرکے سروے سسٹم کیلئے ایپ جاری کی جائے، شہریوں کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
پتوکی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 مارچ2025ء) پتوکی سمیت پنجاب بھر میں بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے دفاتر بندکرکے سروے سسٹم کیلئے ایپ جاری کی جائے شہریوں کا چئیرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد سے مطالبہ ۔
(جاری ہے)
پتوکی ،چونیاں، قصور بھر میں قائم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام دفاتروں میں بزرگ خواتین کبھی پیسوں کے سلسلہ میں تو کبھی سروے کروانے کیلئے سلسلہ میں دھکے کھاتی نظر آتی ہیں لیکن اس کو آسان کرنے کیلئے تاحال کوئی اقدامات سامنے نہیں آئے اگر خاتون نے پیسے چیک کروانے ہوں تو دفتروں کے چکر لگالگاکر خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتی ہیں شہریوں محمد نوید بھٹی ، شوکت علی ،اکمل علی کمبوہ و دیگر نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف ،صدرپاکستان آصف علی زرداری ،چئیرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد،وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف سے مطالبہ کیا ہے کہ پتوکی سمیت پنجاب بھر میں بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے دفاتروں کو بند کرکے سروے سسٹم ،پیسوں کی چیکنگ ،کیلئے ایک ایپ متعارف کروائی جائے جس پر لوگ گھر بیٹھے اپنے سروے کرسکیں اور رقم کی متعلق بھی رہنمائی حاصل کرسکیں بعذ اوقات ایجنٹ مافیا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی آنے والی قسط میں زیادہ کٹوتی کرجاتے ہیں اورخواتین کو علم نہیں ہوتا کہ انکے اکاونٹ میں کتنے پیسے آئے ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔