نیب اور ایف آئی اے سے 5سالوں میں بھجوائے گئے کیسز پر عملدرآمد رپورٹ طلب
اشاعت کی تاریخ: 20th, March 2025 GMT
نیب اور ایف آئی اے سے 5سالوں میں بھجوائے گئے کیسز پر عملدرآمد رپورٹ طلب WhatsAppFacebookTwitter 0 20 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پبلک اکاونٹس کمیٹی نے قومی احتساب بیورو (نیب)اورایف آئی اے سے گزشتہ 5 سالوں کے دوران پی اے سی کی جانب سے بھجوائے گئے کیسز پر عمل درآمد کی رپورٹ طلب کرلی۔
پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر خان کی سربراہی میں ہوا، اجلاس میں وزارت خزانہ کے مالی سال 2023/24 کے آڈٹ اعتراضات پیش کیے گئے۔اجلاس میں وزارت خزانہ کے مالی حسابات کے حوالے سے رکن کمیٹی سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ وزارت خزانہ کی منصوبہ بندی درست نہیں ہے، کس طرح سے بجٹ بنایا گیا اور پھر استعمال کیوں نہ ہوسکا۔ رکن کمیٹی ثنا اللہ مستی خیل نے کہا کہ یہ افسران کی نااہلی ہے۔اس موقع پر سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ 7 ارب روپے سے زائد کی گرانٹ تکنیکی ہے، یہ ورلڈ بنک کا پراجیکٹ ہے،، ہمیں فارن گرانٹ کو روپے کی کور دینی ہوتی ہے تاہم زیادہ تر یہ ہمارے لیے ممکن نہیں ہوتا ہے۔رکن کمیٹی خواجہ شیراز نے کہاکہ فنانشل ڈسپلن کو درست کرنے کی ضرورت ہے، جس پر سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ ہم سے کوتاہیاں ہوئی ہیں تاہم مزید بہتری کے لیے اے جی پی آر سمیت دیگر اداروں کے ساتھ مل بیٹھ کر اقدامات اٹھائیں گے۔
رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ بجٹ کو حقیقت پسندانہ بنانے کی ضرورت ہے، رکن کمیٹی ثنا اللہ مستی خیل نے کہا کہ پڑھے لکھے افسران کیا کر رہے ہیں، ہمیں پاکستان کی صورتحال پر رونا آتا ہے۔رکن کمیٹی سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ وزارت خزانہ کو اپنی غلطیوں کو درست کرنا چاہیئے، کمیٹی نے مالی حسابات کے حوالے سے بہتر ڈسپلن کے لیے تمام اداروں کو مل بیٹھ کر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔آڈٹ حکام نے بتایا کہ پاکستان پوسٹ آفس کی گرانٹ میں ظاہر اخراجات اور اے جی پی آر کے اخراجات میں ایک ارب روپے سے زائد کا فرق ہے، جس پر سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ ڈیٹا آڈٹ حکام کو فراہم کردیا ہے۔کمیٹی نے تصدیق کرانے کی ہدایت کی جس پر آڈٹ حکا م نے بتایا کہ وزارت خزانہ نے اپنے افسران اور اسٹاف کو 4 ماہ کے برابر اعزازیے کوئی پالیسی منظور کروائے بغیر دے دیے اور تمام رقم کیش کی صورت میں ادا کرکے ٹیکس کی مد میں بھی فائدہ پہنچایا گیا، جس پر سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ یہ اعزازیہ صرف خزانہ کو نہیں بلکہ دیگر اداروں کے ملازمین کو بھی ملتا ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس حوالے سے پالیسی کیوں نہیں بنائی، جس پر سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ ہم نے نئی پالیسی بنائی ہے اور اس کو وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا گیا ہے۔انہوں نے بتایا وزارت خزانہ میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے، جو اعزازیے کی ادائیگی کے لیے وفاقی وزیر خزانہ کو سمری پیش کرتی ہے۔رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ مخصوص وزارتوں کو اعزازیہ کیوں دیا جاتا ہے، سرکاری ملازمین کو اضافی کام کرنے پر اعزازیہ ملنا چاہیے۔سیکرٹری خزانہ نے کہاکہ 50 سے 60 اداروں کو اعزازیہ ملتا ہے تاہم اس حوالے سے پالیسی ہونی چاہیئے، کمیٹی نے مستقبل میں اعزازیے کی ادائیگی بعذریہ چیک کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے معاملے کو نمٹا دیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نیب اور ایف آئی اے حکام تمام کیسز کے حوالے سے آگاہ کریں کہ ان پر کتنا عمل درآمد ہوا ہے۔
پبلک اکاونٹس کمیٹی کی مزید 3 ذیلی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں، کمیٹی اجلاس کے دوران چیئرمین جنید اکبر خان نے پی اے سی کی مزید 3 ذیلی کمیٹیوں کا اعلان کردیا، ایک کمیٹی کے کنوینر طارق فضل چوہدری ہوں گے، ممبران میں ثنا اللہ خان مستی خیل، رانا قاسم نون اور حنا ربانی کھر شامل ہیں۔دوسری کمیٹی کے کنوینر سید نوید قمر ہوں گے جبکہ ممبران میں شبلی فراز، شذرا منصب اور معین عامر پیرزادہ شامل ہیں جبکہ تیسری کمیٹی کے کنوینر ملک عامر ڈوگر ہوں گے، ممبران میں شازیہ مری ، ریاض فتیانہ اور افنان اللہ خان شامل ہیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل جے یوآئی کی خاتون رکن اسمبلی شاہدہ اخترعلی کی کنوینر شپ کی ذیلی کمیٹی کااعلان کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔