لندن: آزاد جموں و کشمیر (AJK) کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والے کمیونٹی رہنما شفق محمد کو برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز کا رکن مقرر کر دیا گیا۔ وہ لبرل ڈیموکریٹس کے دوسرے پاکستانی نژاد پارلیمنٹیرین بن گئے ہیں۔

لارڈ شفق محمد نے قرآن پاک پر حلف اٹھایا اور اپنی تقرری پر لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ سر ایڈ ڈیوے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ یہاں تک پہنچوں گا۔ میں چکسواری، میرپور (آزاد کشمیر) کے ایک کچے مکان میں پیدا ہوا تھا، جہاں غربت اور محرومی عام تھی۔ میرے والد، چچا اور دادا سب برطانیہ اور پاکستان میں مزدور تھے۔ لیکن محنت اور لگن سے میں آج اس مقام پر پہنچا ہوں۔"

لارڈ شفق محمد، جو یوتھ ورک، عوامی خدمت اور مقامی حکومت میں کام کرتے رہے ہیں، نے کہا کہ ان کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانیہ مواقع کی سرزمین ہے۔ "یہ ملک ہمارا گھر ہے، ہمارا مستقبل یہاں ہے۔ ہمیں کشمیر اور پاکستان کی فکر ضرور ہے، مگر ہمیں یہاں بھی مضبوط کمیونٹی بنانی ہے۔"

شفق محمد نے 2004 میں شیفیلڈ میں بطور کونسلر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور 2011 میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے کونسل لیڈر بنے۔ 2015 میں انہیں برطانیہ کے اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک، MBE (ممبر آف دی برٹش ایمپائر) سے نوازا گیا۔

2019 میں وہ یورپی پارلیمنٹ (MEP) میں منتخب ہوئے، جہاں انہوں نے خواتین کے حقوق، ماحولیات، انسانی حقوق اور سماجی آزادیوں کے لیے بھرپور آواز بلند کی۔

لارڈ شفق محمد نے کہا کہ وہ برطانوی پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے مسائل کو اجاگر کرتے رہیں گے اور کمزور طبقے کے حقوق کے لیے کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گروہ بندی جرائم میں ملوث افراد پاکستانی یا اسلامی اقدار کی نمائندگی نہیں کرتے اور کمیونٹی کو ان چیلنجز کا متحد ہو کر سامنا کرنا ہوگا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • برطانوی ہائی کمیشن میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کے آغاز کی تقریب
  • تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • شہرِ دل رُبا۔۔۔۔ راول پنڈی (تیسرا اور آخری حصہ)
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی