سٹی42: یوم شہادت حضرت علیؓ کے موقع پر پنجاب پولیس نے سکیورٹی پلان فائنل کر لیا۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق مجالس و عزاداری جلوسوں کے شرکا کی چیکنگ کے لئے 1971 میٹل ڈٹیکٹرز، 457 واک تھرو گیٹس استعمال کئے جائیں گے، سیف سٹیز اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ کے کیمروں کی مدد سے عزاداری جلوسوں اور مجالس کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی، لاہور سمیت پنجاب بھر میں کیٹیگری اے کے 27 عزاداری جلوس برآمد، 62 مجالس منعقد ہونگی، سینٹرلپولیس آفس میں قائم مرکزی کنٹرول اینڈ مانیٹرنگ روم سے تمام تر سرگرمیوں کی نگرانی کی جائے گی۔

خبردار ! رات گئے تک جاگنا اچھا نہیں۔۔

انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا کہنا ہے یوم شہادت حضرت علیؓ پر سکیورٹی انتہائی سخت ہو گی، لاہور سمیت صوبہ بھر میں 26 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکار عزاداری جلوسوں، مجالس کی سکیورٹی پر تعینات ہوں گے، صوبائی دارالحکومت لاہور میں عزاداری جلوسوں، مجالس کی سکیورٹی پر 07 ہزار سے زائد افسران و اہلکار مامور ہونگے، 192 عزاداری جلوسوں کی سکیورٹی پر 17 ہزار، 955 مجالس پر 09 ہزار سے زائد افسران و اہلکار فرائض انجام دیں گے، 600 سے زائد ٹریفک پولیس کے افسران و اہلکار اور ایلیٹ پولیس کی 72 ٹیمیں تعینات ہوں گی، ٭ ڈولفن سکواڈ کی 44 ٹیمیں اور پی آر یو کی 30 ٹیمیں بھی پٹرولنگ ڈیوٹی انجام دیں گی۔

پنجاب: بائیکس گرین لین منصوبہ اخراجات, درخواست پر ہائیکورٹ آفس کا اعتراض برقرار

انہوں  نے ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ یوم شہادت حضرت علیؓ پر پولیس انتہائی الرٹ رہے، عزاداری جلوسوں اور مجالس کے شرکا کی مکمل چیکنگ یقینی بنائیں، خواتین عزاداروں کی سکیورٹی چیکنگ کیلئے لیڈی پولیس اہلکار تعینات کی جائیں گی، عزاداری جلوسوں میں سادہ لباس میں کمانڈوز، روٹس کی چھتوں پر سنائپرز تعینات ہوں گے، صوبہ بھر میں متبادل راستوں سے ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کیلئے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے۔

افسران و ملازمین کے لیے خوشخبری

 آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ ڈولفن سکواڈ، پیرو، سپیشل برانچ، سی ٹی ڈی سمیت تمام فیلڈ فارمیشنز یوم شہادت حضرت علیؓ کے سکیورٹی انتظامات میں مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں، آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز حساس اضلاع میں جلوسوں اور مجالس کے سکیورٹی انتظامات کی چیکنگ کیلئے فیلڈ میں موجود رہیں۔

سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کا کہنا ہے لاہور پولیس کی جانب سے یوم شہادت حضرت علیؓ پر مجالس اور جلوسوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے گی، جلوس کے شرکاء کو تین درجاتی حصار پر مبنی سکیورٹی مہیا کی جائے گی، پولیس انتہائی الرٹ رہے، عزاداری جلوسوں اور مجالس کے شرکاء کی مکمل چیکنگ یقینی بنائی جائے گی، مجالس و جلوسوں کی سی سی ٹی وی کیمروں سے لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کی جائے گی۔

پھلوں اور سبزیوں کی آج کی ریٹ لسٹ -جمعرات 20 مارچ, 2025

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 یوم شہادت حضرت علی جلوسوں اور مجالس افسران و اہلکار عزاداری جلوسوں کی سکیورٹی کی جائے گی

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹانک: پولیس چیک پوسٹ پر خوارج کا بزدلانہ حملہ، 15 بہادر جوان شہید، جوابی کارروائی میں 12 دہشتگرد ہلاک
  • کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
  • پی ڈی ایم اے پنجاب کا شدید بارشوں کا الرٹ، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • لاہور ڈیفنس فیز 5 میں گھر کی بیسمنٹ سے 53 سالہ شخص کی لاش برآمد
  • آئی جی پنجاب نے27افسران کے تقرروتبادلے کر دیے
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے