ڈیموں میں پانی ختم، دریا خشک، صرف پینے کا پانی دستیاب، خریف سیزن میں فصلوں کو خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)خریف سیزن چند دنوں میں شروع ہونے کے ساتھ ہی پانی کی غیر معمولی قلت کے خدشے کی وجہ سے آبپاشی کے ماہرین کے لیے پورے سیزن کے لیے پانی کی فراہمی کی منصوبہ بندی کرنا مشکل ہو رہا ہے۔نجی چینل کی رپورٹ کے مطابق ایک عہدیدار نے بتایا کہ ’ڈیموں میں پانی نہیں، دریاؤں کا بہاؤ کم ہو گیا، اور پہاڑوں پر برف کے کم ذخائر بہتر بہاؤ فراہم نہیں کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سے فصلوں کی پیداوار پر بہت سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک ماہ اپریل کے لیے صرف ’پینے کی سپلائی‘ کی جائے گی اور پھر صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔یہ نایاب واقعہ ہے کہ واٹر ریگولیٹر نے ماہانہ بنیادوں پر پانی کے اخراج کے پیرامیٹرز شروع کیے ہیں، حالاں کہ ماضی میں ایک سیزن کے دوران 3 حصوں میں پانی کی تقسیم کی مثالیں موجود ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ تینوں آبی ذخائر میں سے کسی میں بھی پانی ذخیرہ نہ ہونے کی وجہ سے ریم اسٹیشنوں پر پانی کے اخراج میں 51 فیصد شارٹ فال رہا، اور صوبائی کینال ہیڈز تک پہنچتے ہوئے 60 فیصد سے تجاوز کر گیا۔
ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ارسا ایڈوائزری کمیٹی (آئی اے سی) نے غیر واضح آب و ہوا کے پیرامیٹرز اور محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی جانب سے پیش کردہ موسم گرما 2025 کے موسم کے نقطہ نظر کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف 25 اپریل کے مہینے کے لیے پانی کی دستیابی کی منظوری دی، جس میں 43 فیصد سسٹم شارٹ فال ہے۔
ارسا کے چیئرمین اور خیبر پختونخوا کے رکن صاحبزادہ محمد شبیر کی زیر صدارت آئی اے سی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں یکم اپریل سے 30 ستمبر تک خریف میں پانی کی دستیابی کے متوقع معیار کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں ارسا کے تمام اراکین، چیف انجینئرنگ ایڈوائزر، صوبائی سیکریٹری آبپاشی اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں ربیع 25-2024 (اکتوبر تا مارچ) سسٹم آپریشن کا جائزہ لیا گیا، اور 20 مارچ تک مجموعی طور پر 16 فیصد کمی کے مقابلے میں 18 فیصد کمی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اپریل، مئی اور جون کے مہینوں میں ملک کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں معمول سے کم بارش اور درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
پی ایم ڈی نے سندھ اور جہلم کے آبی علاقوں میں موسم سرما کی برفباری کی بھی اطلاع دی ہے، جو معمول کے 49.
سندھ اور پنجاب دونوں نے صرف اپریل کے مہینے کے لیے پانی مختص کرنے پر اتفاق کیا تاکہ اپنی آبی طلب سے فائدہ اٹھایا جاسکے، اور پھر صورت حال کا دوبارہ جائزہ لیا جاسکے۔تاہم سندھ نے متنازع تھری ٹیئر واٹر ڈسٹری بیوشن فارمولے کے تحت پانی کی تقسیم پر اپنا اعتراض درج کرایا اور مطالبہ کیا کہ پانی کے شیئر پر آبی معاہدے کے پیرا 2 پر کام کیا جائے، اس صورت میں اپریل میں پانی کی قلت کا تخمینہ 55 فیصد سے زیادہ لگایا گیا تھا۔
خریف کی فصل کا سیزن اپریل میں شروع ہوتا ہے، اور ستمبر تک رہتا ہے، چاول، گنا، کپاس، مکئی اور ماش اس موسم کی اہم فصلیں ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اجلاس میں میں پانی پانی کی کے لیے
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،