دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان کے ہاں چوتھی بیٹی کی پیدائش، انسٹاگرام پر جذباتی پیغام جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
دبئی: دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم اور ان کی اہلیہ شیخہ شیخہ بنت سعید بن ثانی المکتوم کے ہاں چوتھی بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے، جس کا نام ’ہند‘ رکھا گیا ہے۔ یہ نام ولی عہد کی والدہ شیخہ ہند بنت مکتوم بن جمعہ المکتوم کے اعزاز میں رکھا گیا ہے۔
شیخ حمدان نے بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری انسٹاگرام پر شیئر کرتے ہوئے لکھا: "اے اللہ، اسے اپنی محبت سے بھرا دل عطا فرما، اسے روشنی اور ہدایت کا ذریعہ بنا، اور اسے صحت اور خوشحالی کی چادر میں لپیٹ دے۔"
شیخ حمدان 2021 میں جڑواں بچوں کے والد بنے تھے، جن میں بیٹا راشد اور بیٹی شیخہ شامل ہیں، جبکہ 2023 میں ان کے ہاں بیٹے محمد کی پیدائش ہوئی تھی۔
نام ’ہند‘ عربی زبان کا ایک قدیم نام ہے، جو طاقت، دولت اور عظمت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر یہ "سو اونٹ" کے معنی میں استعمال ہوتا تھا، جو قدیم عرب میں خوشحالی کی نشانی تھا۔ اس نام کو کئی اہم شخصیات نے اپنایا۔
شیخ حمدان 2008 سے دبئی کے ولی عہد ہیں اور ساتھ ہی متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم اور شیخہ ہند بنت مکتوم بن جمعہ المکتوم کے بیٹے ہیں۔
شیخ حمدان نے 2019 میں اپنی کزن شیخہ شیخہ بنت سعید بن ثانی المکتوم سے شادی کی، جو دبئی کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں شیخ حمدان نے دبئی میں مساجد کی تعمیر اور بحالی کے منصوبے پر دستخط کیے، جبکہ گزشتہ ماہ انہوں نے ’ارتھ دبئی‘ منصوبہ لانچ کیا، جس کا مقصد ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کا تحفظ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی پیدائش دبئی کے ولی عہد
پڑھیں:
بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 24 جولائی 2026ء) یورپی یونین کے حکام کے مطابق اس پلیٹ فارم کے بعض ڈیزائن فیچرز بچوں کو جنسی استحصال کرنے والے افراد اور سائبر بُلیئنگ جیسے خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔
یہ الزامات ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (ڈی ایس اے) کے تحت جاری کیے گئے ابتدائی نتائج کے بعد عائد کیے گئے ہیں۔ اس قانون کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر غیر قانونی اور نقصان دہ آن لائن مواد کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنا لازم ہے۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران ٹک ٹاک کے خلاف یہ چوتھا بڑا مقدمہ ہے۔یورپی یونین کے انتظامی بازو یورپی کمیشن کے ٹیکنالوجی کے شعبے کا نگران ذیلی دفتر کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کے صارف اکاؤنٹس ڈی ایس اے کے حفاظتی معیارات پر پورا نہیں اترتے۔
(جاری ہے)
یورپی کمیشن کے مطابق ٹک ٹاک بچوں کو اپنے اکاؤنٹس پبلک رکھنے کی اجازت دیتا ہے، جس سے ان کی پوسٹس ہر شخص کے لیے قابل رسائی ہو جاتی ہیں اور وہ سائبر بُلیئنگ یا آن لائن بدسلوکی کرنے والے افراد کے ساتھ رابطے میں آ جانے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
کمیشن نے مزید کہا کہ پرائیویٹ اکاؤنٹس رکھنے والے بچوں کو بھی مکمل تحفظ حاصل نہیں، کیونکہ دوسرے صارفین کی 'فالونگ‘ اور 'فالورز‘ فہرستوں کے ذریعے ان کے اکاؤنٹس آسانی سے تلاش کیے جا سکتے ہیں، حتیٰ کہ ایسے افراد بھی انہیں ڈھونڈ سکتے ہیں جن کا ٹک ٹاک پر اپنا کوئی اکاؤنٹ موجود نہ ہو۔
یورپی کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ کم عمر صارفین کے پبلک اکاؤنٹس کی ڈیفالٹ سیٹنگز تبدیل کی جائیں تاکہ ان کا مواد ازخود صرف انہی ٹک ٹاک صارفین کو نظر آئے جنہیں متعلقہ بچوں نے خود اجازت دے رکھی ہو۔
ٹک ٹاک کا ردعملدوسری جانب ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ وہ یورپی کمیشن کے ابتدائی تحقیقاتی نتائج کا جائزہ لے گا اور ریگولیٹر کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھے گا۔
اس کمپنی کے ایک بیان میں کہا گیا، ''ٹک ٹاک پر نوعمر صارفین کے اکاؤنٹس میں رجسٹریشن کے وقت ہی ماہرین کی مشاورت سے تیار کردہ 50 سے زائد پرائیویسی اور حفاظتی فیچرز فعال ہوتے ہیں۔
‘‘اب ٹک ٹاک کو یورپی کمیشن کی دستاویزات کا جائزہ لینے اور اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد کمیشن اپنا حتمی فیصلہ جاری کرے گا۔ اگر اس کمپنی کے خلاف عائد کردہ الزامات ثابت ہو گئے، تو ٹک تاک پر اس کی سالانہ عالمی آمدنی کے 6 فیصد تک کے برابر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ ٹک ٹاک اس سے قبل بھی دو مقدمات میں ممکنہ جرمانوں سے بچنے کے لیے یورپی ریگولیٹرز کو مختلف رعایتیں دینے پر آمادہ ہو چکا ہے، جبکہ اس کے خلاف ایک کیس میں تحقیقات تاحال جاری ہیں۔
ادارت: مقبول ملک