رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی (اکتوبر تا دسمبر2024) کے دوران ملکی معیشت کی شرح نمو(جی ڈی پی) 1.73 فیصدریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران ریکارڈ کی گئی 1.77 فیصد کے مقابلے میں کم ہے.

نیشنل اکاوٴنٹس کمیٹی (این اے سی) کمیٹی کا حالیہ اجلاس سیکریٹری منصوبہ بندی کمیشن کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران جی ڈی پی کی نظر ثانی شدہ شرح نمو 1.

34 فیصد مقرر کرنے کی منظوری دی گئی جس کا پچھلا تخمینہ 0.92 فیصد تھا اور مالی سال 2024-25کی دوسری سہ ماہی کے لیے عبوری شرح نمو کی بھی منظوری دی گئی۔

نیشنل اکاوٴنٹس کمیٹی (این اے سی) کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کی دوسری سہہ ماہی نمو کی بنیادی وجہ خدمات کے شعبے میں 2.57 فیصد اور زراعت میں 1.10 فیصد اضافہ ہے، تاہم صنعتی شعبے میں 0.18 فیصد کی کمی ہوئی جس کی وجہ سے مجموعی معاشی کارکردگی متاثر ہوئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو توقع ہے کہ مالی سال 25 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 2.5 سے 3.5 فیصد کی حد کے اوپری نصف حصے میں رہے گی جب کہ آئی ایم ایف نے شرح نمو 3.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے حال ہی میں پاکستان کی جی ڈی پی نمو کی پیش گوئی پر نظر ثانی کی جس سے یہ 2.8 فیصد کے پچھلے تخمینے سے بڑھ کر 3 فیصد ہوگئی ہے زراعت کے شعبے میں سست روی کی بنیادی وجہ کپاس، چاول اور مکئی جیسی اہم فصلوں میں منفی نمو ہے۔

کپاس کی پیداوار میں 30.7 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی اور رواں سال پیداوار 70 لاکھ 84 ہزار گانٹھ ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ سال ایک کروڑ 22 لاکھ گانٹھ تھی چاول کی پیداوار میں 1.4 فیصد کمی ہوئی اور مجموعی طور پر 97 لاکھ 20 ہزار ٹن پیداوار ہوئی، جو گزشتہ سال کے 98 لاکھ 60 ہزار ٹن سے کم ہے اسی طرح مکئی کی پیداوار میں 15.4 فیصد کمی ہوئی اور پیداوار گزشتہ سال کے 97 لاکھ 40 ہزار ٹن سے کم ہو کر 82 لاکھ 40 ہزار ٹن رہ گئی۔

تازہ ترین نظر ثانی شدہ تخمینہ جات کے مطابق گنے کی پیداوار میں 2.3 فیصد کمی ہوئی، جو کْل 85.62 ملین ٹن ہے، جو گزشتہ سال کے 87.64 ملین ٹن سے کم ہے گندم کے رقبے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 6.8 فیصد کمی ہوئی، حالانکہ پہلی سہ ماہی میں اس کا کوئی اثر نہیں پڑا، آلو کی قیمتوں میں 14.2 فیصد جبکہ دیگر فصلوں کی قیمتوں میں 0.73 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کپاس کی بہترین پیداوار کی وجہ سے مالی سال 24 میں کاٹن جننگ اور متفرق اجزا میں اضافہ دیکھا گیا تھا، لیکن کپاس کی ناقص پیداوار کی وجہ سے مالی سال 25 میں ان میں کمی واقع ہوئی۔

گزشتہ سال کی دوسری سہ ماہی میں لائیو اسٹاک کی پیداوار میں 6.51 فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ خشک چارے (منفی 6.7 فیصد) اور سبز چارے (منفی 1.68 فیصد) کی درمیانی کھپت میں کمی تھی۔

خیبر پختونخوا میں متوقع پیداواری صلاحیت میں کمی کی وجہ سے جنگلات میں کمی آئی ہے، جب کہ ماہی گیری میں اضافہ ہوا ہے رواں مالی سال کی دوسری سہہ ماہی کے دوران پہلی سہ ماہی کی طرح صنعتی شعبے میں بھی گراوٹ دیکھی گئی اور گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 0.18 فیصد کی منفی نمو ریکارڈ کی گئی کان کنی اور کھدائی کے شعبے میں 3.29 فیصد کمی دیکھی گئی جس کی وجہ گیس کی پیداوار میں 6.16 فیصد کمی، تیل کی پیداوار میں 11.4 فیصد اور کوئلے کی پیداوار میں 6.34 فیصد کمی ہے۔

دوسری سہ ماہی میں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں 2.86 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی، مندی کی وجہ چینی (منفی 12.63 فیصد)، سیمنٹ (منفی 1.82 فیصد) اور آئرن اینڈ اسٹیل (منفی 17.86 فیصد) جیسے شعبوں میں خراب کارکردگی ہے چھوٹے پیمانے کے شعبہ اور ذبیحہ سازی کے کاموں میں مستقل ترقی ہوئی، بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 7.71 فیصد کی قابل ذکر نمو دیکھی گئی، جس کی وجہ گیس کی صنعت کی پیداوار میں اضافہ ہے سیمنٹ کی پیداوار اور لوہے اور اسٹیل کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے تعمیراتی شعبے میں دوسری سہ ماہی میں 7.14 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا خدمات کی صنعت میں 2.43 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں خدمات کی صنعت میں 2.43 فیصد اضافہ ہواہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ میں 1.13 فیصد کا منفی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی وجہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کی پیداوار (منفی 1.5 فیصد) اور درآمدات (منفی 3.5 فیصد) ہے ٹرانسپورٹ اور اسٹوریج کی صنعت میں 1.15 فیصد اضافہ ہوا جو روڈ ٹرانسپورٹ، ایئر ٹرانسپورٹ اور واٹر ٹرانسپورٹ میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔

انفارمیشن اور کمیونیکیشن کے شعبے میں 8.45 فیصد کی نمایاں نمو دیکھنے میں آئی جس کی وجہ موبائل کمپنیوں کی پیداوار میں اضافہ، افراط زر میں کمی اور کم بنیادی اثرات ہیں جبکہ فنانس اور انشورنس انڈسٹری میں 10.21 فیصد، پبلک ایڈمنسٹریشن اور سوشل سیکیورٹی میں 9.10 فیصد اور پبلک سیکٹر کی تعلیم میں بھی بہتری دیکھی گئی، دوسری سہ ماہی کے دوران انسانی صحت اور سماجی کاموں میں 6.60 فیصد جبکہ دیگر نجی خدمات میں 3.14 فیصد اضافہ ہوا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے قرضوں پر مارک اپ کی شرح 11.89 فیصد سالانہ مقرر کردی
  • پیٹرول مہنگا ہونے سے عوام اور پمپ مالکان پریشان، 90 فیصد لوگوں کا ٹنکی فُل کروانا خواب بن گیا
  • گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ